‘ڈرائی ڈاکنگ کی وجہ سے صرف دو دن گیس کی فراہمی زیرو ہو گی’

ڈرائی ڈاکنگ کے دوران گیس کی کمی بیشی پوری کرنے کے لیے متبادل انتظام کر رہے ہیں، کوشش ہو گی لوڈ شیڈنگ نہ کرنی پڑے، وزیر برائے توانائی حماد اظہر کی پریس کانفرنس

356

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ گیس فیلڈز کی مینٹی نینس جلد مکمل ہو جائے گی، ڈرائی ڈاکنگ کی وجہ سے صرف دو دن گیس کی فراہمی زیرو ہو گی۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ ہمارے پاس ایل این جی کے دو ٹرمینلز ہیں جن کے ساتھ معاہدہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں ہوا اور اس معاہدے میں لکھا ہے کہ 15 برس میں یہ ٹرمینلز دو دفعہ ڈرائی ڈاکنگ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ڈرائی آف کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جو عالمی ادارہ اِن ٹرمینلز کے محفوظ ہونے کے سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے اس نے کہا ہے کہ 30 جون کے بعد ٹرمینل نہیں چلا سکتے، اس کے امریکی مالک نے بھی کہا کہ ٹرمینل نہیں چلائیں گے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ’اب ہو گا یہ کہ چھ دنوں کے لیے یہ جہاز اپنی جگہ سے ہٹے گا اور اس کی جگہ دوسرا جہاز لے گا۔ اس دوران صرف دو دن کے لیے اس ٹرمینل سے گیس کی ترسیل زیرو ہو گی، دوسرے ٹرمینل سے گیس فراہمی بدستور جاری رہے گا۔‘

حماد اظہر نے کہا کہ ڈرائی ڈاکنگ کے دوران گیس کی کمی بیشی پوری کرنے کے لیے متبادل انتظام کر رہے ہیں اور اگر ان دنوں میں زیادہ مسئلہ درپیش ہوا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تربیلا سے بھی 50 فیصد بجلی مل رہی ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ 29 جون سے 6 جولائی تک کے لیے ہم نے متبادل بندوبست بھی کیا ہوا ہے، ہم دوسرے پلانٹس چلا کر اس خلا کو پُر کریں گے اور کوشش ہو گی کہ لوڈ شیڈنگ نہ کرنی پڑے۔

انہوں نے کہا کہ گیس فیلڈ کو آئوٹ کرنے کے سوالات کیے جا رہے ہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ تین چار گیس فیلڈز کی منٹی نینس ہونا تھی لیکن ہم نے انہیں آگے کر دیا ہے۔ صرف ایک بڑی گیس فیلڈ ایسی تھی جس کی منٹی نینس مزید آگے نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے اس کی مینٹی نینس کا شیڈول ایک ہفتہ پہلے کر دیا تھا اور 29 جون سے گیس دوبارہ ملنا شروع ہوجائے گی۔

حماد اظہر نے مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر توانائی کے تحفظات کے حوالے سے کہا کہ جب بھی ان ٹرمینلز کی ڈرائی ڈاکنگ ہو گی تو لامحالہ متبادل توانائی کا استعمال ضروری ہو گا، یہ 15 برس میں دو مرتبہ ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here