کیا آئی ایم ایف پروگرام معطل اور عالمی بینک نے پاکستان کو قرض فراہمی روک دی ہے؟

مسلم لیگ (ن) کے وزیر خزانہ یک طرفہ طور پر ملک کو نیا قرض پروگرام ڈھونڈنے پر مجبور کرنے کے ذمہ دار ہیں، اگست میں آئی ایم ایف مشن پورے سال کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے دورہ کرے گا، ترجمان وزارت خزانہ کا مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس کا جواب

234

اسلام آباد: ترجمان وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام برقرار ہے اور توقع ہے کہ اگست میں آئی ایم ایف مشن پورے سال کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے دورہ کرے گا۔

مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کے ردِعمل میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزامات ہیں کہ پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام میں کچھ نہیں کیا۔

مفتاح اسماعیل نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام معطل ہو چکا ہے اور دو سالوں میں آئی ایم ایف کا کوئی ایک بھی ہدف پورا نہیں کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے 3862 ابر روپے کے مقابلے میں ٹیکس محاصل 4700 ارب تک پہنچ چکے ہیں، زرمبادلہ ذخائر 16.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 23.4 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، حسابات جاریہ کا خسارہ جولائی۔ مئی 2021ء میں 20 ارب ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب ڈالر فاضل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی خسارہ جی ڈی پی کا 3.8 فیصد پر چھوڑا گیا تھا جسے انتہائی مشکل معاشی صورت حال کے باوجود موجودہ حکومت کم کرکے 1.1 فیصد پر لانے میں کامیاب ہوئی ہے اور بجٹ میں جی ڈی پی کے تناسب سے خسارہ کا اندازہ 0.6 فیصد لگایا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کوویڈ 19 کے اخراجات میں ایڈجسٹمنٹ کرنے اور آئی پی پیز کے گردشی قرضوں کو سلجھانے کے بعد اس بنیادی خسارے کو بھی مثبت 0.1 فیصد کی طرف واپس لانے کا بجٹ بنایا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ شرح سود جولائی 2018ء میں 7.5 فیصد تھی، وہ اب 7 فیصد پر ہے۔ مفتاح اسماعیل کی وزارت کے دور میں سب سے زیادہ سرکاری قرض سٹیٹ بینک سے لیا گیا جس کے نتیجے میں سٹیٹ بینک کے قرض کا حجم 30 جون 2016ء کو 1400 ارب روپے سے بڑھ کر جولائی 2018ء میں 5000 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔

’لہٰذا یہ کہنا بے بنیاد ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام میں کچھ نہیں کیا بلکہ یہ جاننا دلچسپ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وزیر خزانہ یک طرفہ طور پر ملک کو نیا قرض پروگرام ڈھونڈنے پر مجبور کرنے کے ذمہ دار ہیں اور حسابات جاریہ کے خسارے کو 20 ارب ڈالر تک لے گئے اور صرف ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو تباہ کر گئے اور اعلیٰ شرح سود کے ساتھ ساتھ کرنسی کو دس فیصد گرا گئے۔‘

ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ورلڈ بینک نے پاکستان کو قرضوں کی فراہمی روک دی ہے، اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں، گزشتہ روز ہی عالمی بنک نے 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔

تیل کی قیمتوں کے حوالے سے لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس سے مہنگائی بڑھے گی، حکومت کو پٹرولیم لیوی کا 27.5 فی لٹر ادا کرنا پڑے گا۔

اس کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں پٹرولیم کی بین الاقوامی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہوا لیکن اس کے برعکس پاکستان میں تقریباََ 45 فیصد اضافہ کیا گیا اور یہ قیمتیں ٹیکس کی قربانی دے کر برقرار رکھی گئیں تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔

مزید برآں ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی آئے گی، نیز حکومت سعودی عرب کے ساتھ مراعات پر تیل کی فراہمی کے معاہدے کو حتمی شکل دے رہی ہے جس سے قیمتوں میں مزید استحکام آئے گا۔

مفتاح اسماعیل نے سوال اٹھایا کہ ری فنڈز کی مد میں 700 ارب روپے کے بقایا جات ادا نہیں کئے گئے، اس کے جواب میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ اس میں بھی کوئی صداقت نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کچھ رقم اُس مدت سے متعلق ہے جب مسلم لیگ (ن) نے ری فنڈز کی فوری ادائیگی سے انکار کرکے زیادہ آمدنی ظاہر کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پچھلے دو سالوں کے دوران 140 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں جو اس حکومت کے ذمہ ہی نہیں تھے۔ رواں سال 233 ارب کی ادائیگی کی گئی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 82 فیصد زیادہ ہے۔

لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ اگر ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دیا گیا تو لوگوں کو ہراساں کیا جائے گا، اس کے جواب میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ درحقیقت مفتاح اسماعیل ایسے دعوے کرکے قوم کو گمراہ کر رہے ہیں کہ حکومت نے ٹیکس مشینری کو گرفتاری اور ہراساں کرنے کے سخت اختیارات دے دیئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت نے خود تشخیصی کا عمل متعارف کرایا ہے، جان بوجھ کر ٹیکس چوری قانوناََ جرم سمجھا جائے گا جس کی سزا جیل ہو گی۔ بھرپور کوشش ہو گی کہ ٹیکس دہندگان کو ہراساں نہ کیا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر خزانہ نے سینیٹ کی فنانس کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گرفتاری کے اختیار کو کسی اضافی کمشنر کے ذریعہ نہیں بلکہ خود ان کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کے ذریعہ استعمال کیا جا سکے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here