پاکستان ویکسین خریدنے کیلئے ترقیاتی شراکت داروں سے کریڈٹ لائن حاصل کرے گا

پاکستانیوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، وزارت خزانہ ویکسین خریدنے کیلئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائے، شوکت ترین کا نئی آٹو پالیسی اور ویکسین کی دستیابی سے متعلق اجلاس سے خطاب

92

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ہدایت کی ہے کہ وزارت اقتصادی امور کورونا سے بچائو کی ویکسین خریدنے کیلئے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ کریڈٹ لائن کی سہولت لینے کیلئے پراسیس شروع کرے جبکہ وزارت خزانہ ویکسین خریدنے کیلئے فنڈز کی فراہمی ممکن بنائے۔

جمعہ کو وزارت خزانہ میں نئی آٹو پالیسی کا جائزہ لینے اور ملک میں کوویڈ-19 ویکسین کی دستیابی کی صورت حال سے متعلق الگ الگ اجلاس منعقد ہوئے۔

نئی آٹو پالیسی کا جائزہ لینے اوراسے حتمی شکل دینے سے متعلق اجلاس میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، معاون خصوصی ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود اور وزارت صنعت پیداوار، وزارت تجارت اور ایف بی آر کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی کا مقصد 850 سی سی سے لیکر ایک ہزار سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کی مناسب قیمت پر فراہمی کو ممکن بنانا تھا۔

اس کے علاوہ نئی آٹو پالیسی کا مقصد ملک میں تیار ہونے والی کاروں میں مقامی پرزہ جات کے استعمال، موٹر سائیکلوں اور تھری ویلرز کے آٹوپارٹس کی برآمدات اور مقامی مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا ہے  تاکہ پاکستان کے عوام کو بہتر ٹیکنالوجی اور مناسب قیمت پر کاروں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات اور اس سے منسلک ٹیکنالوجی نصب کرنے پر کئی رعایتیں دی جا رہی ہیں، اجلاس میں آٹو سیکٹر کی جانب سے حکومت کو ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی جیسے دیگر زیر التواء امور بھی زیربحث آئے۔

انڈسٹری کے نمائندوں نے خوش اسلوبی سے تصفیہ کو حتمی شکل دینے سے اتفاق کیا، وزیر خزانہ نے نئی آٹو پالیسی کے حتمی اعلان میں مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

ویکسین فراہمی کے حوالے سے اجلاس

دریں اثنا وزیر خزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر اقتصادی امور عمر ایوب خان اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان سے ملک میں کوویڈ-19 کی ویکسین کی دستیابی کی صورتحال پر خصوصی میٹنگ کی۔

وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) کے چئیرمین کی حیثیت سے بریفنگ میں بتایا کہ این سی او سی کے فورم سے ہر ہفتہ کوویڈ کی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور تمام متعلقہ فریقین کے تعاون سے پوری کوشش کی جاتی ہے تاکہ ویکسین کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آ جائے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباََ ہر ملک پہلے سے ویکسین کی فراہمی کیلئے انتظامات کرتا ہے اور اس کے لیے فوری ادائیگی کا دبائو ہوتا ہے۔

وزارت اقتصادی امور کی جانب سے وفاقی وزیر کو ویکسین کی خریداری کیلئے ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے دستیاب کریڈٹ لائن پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بروقت ویکسین کی خریداری اور فراہمی کے ذریعہ شہریوں کی صحت کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

شوکت ترین نے نے وزارت اقتصادی امور کو ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ کریڈٹ لائن کی سہولت لینے کیلئے پراسیس شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ ویکسین فراہم کرنے والے اداروں کو بروقت ادائیگی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے وزارت خزانہ کو سپلائی شیڈول کے مطابق فنڈز کی فراہمی کی ہدایت بھی کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here