سٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کیلئے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے خیبرپختونخوا کو 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی فراہمی، این جی اوز سے  معتلق نئی پالیسی، روز ویلٹ ہوٹل کے واجبات کی ادائیگی کیلئے ایک کروڑ 73 لاکھ ڈالر کی منظوری دے دی

215
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کے لئے 3 ملین میٹرک ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دے دی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت کابینہ ڈویژن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے 3 ملین میٹرک ٹن گندم کی درآمد کی درخواست کی منظوری دی گئی تاہم اس کے لئے پیپرا بورڈ سے منظوری لینا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اقدام کا مقصد ملک میں گندم کے سٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنا ہے۔

ای سی سی نے پاسکو کے ذخائر سے کاشت کاری کے سال 2021-22ء میں خیبرپختونخوا کو 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی فراہمی سے متعلق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی درخواست کی منظوری دی۔ یہ گندم معمول کے قواعدوضوابط کے مطابق صوبائی ضرورت کے مطابق فراہم کی جائے گی جس کے تمام اخراجات خیبرپختونخوا کا محکمہ خوراک برداشت کرے گا۔

اجلاس میں غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے والی غیر سرکاری اور غیر منافع بخش تنظیموں (این جی اوز/ این پی اوز) کے لئے نئی پالیسی کی منظوری دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی پالیسی ایسے انداز میں وضع کی گئی ہے جس سے حکومت اور غیر حکومتی شعبوں میں اشتراک کار کو فروغ دیا جا سکے۔

نئی پالیسی کے تحت این جی اوز کی منظوری اب 60 دنوں میں ہو سکے گی، درخواست دائر کرنے سے لے کر تمام امور آن لائن سرانجام پائیں گے، پالیسی میں اچھی ساکھ کے حامل اداروں کو زمہ داری دی گئی ہے تاکہ وہ ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔

ای سی سی نے اس ضمن میں وزارت اقتصادی امور کی کوششوں کو سراہا اور ہدایت کی کہ آئندہ 4 سے 8 ہفتوں میں تمام شراکت داروں سے مشاورت کے بعد مزید تجاویز اور فیڈ بیک دیا جائے تاکہ اس کو بھی نئی پالیسی میں شامل کیا جائے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت توانائی کی جانب سے ڈبلیو او پی اور ایم ایف ایم پائپ لائن کے ذریعے اِن لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کی وساطت سے گیسولین اور ٹرانسپورٹیشن کے زیادہ سے زیادہ 0.5 فیصد کی شرح سے آپریشنل نقصانات کی درخواست کی اجازت دے دی۔ پائپ لائنز کی فزیکل انوینٹری کی بنیاد پر اس کی ایڈجسٹمنٹ ہو گی، اصل قیمت کا تعین اوگرا حقیقی نقصانات اور اضافی مارجن کی بنیاد پر ای سی سی کی منظوری سے کرے گا۔

اجلاس میں روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے معمول کے واجبات کی ادائیگی کے لئے پی آئی اے کے لئے 17.3 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی۔ آڈیٹر اور پی آئی اے آئی ایل بورڈ اس کی تصدیق پہلے کر چکے ہیں۔ ای سی سی نے وزارت خزانہ ، نجکاری کمیشن، پی آئی اے اور شہری ہوابازی ڈویژن کو باہمی مشاورت سے ایک ماہ کے اندر حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس اثاثے کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا سکے۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کی حکومت کو گندم کی سبسڈی فراہم کرنے کے لئے وزارت خزانہ کے لئے 1.370 ارب روپے، وزارت صنعت و پیداوار کے مختلف اخراجات کے لئے 32.097 ارب روپے، مئی 2021ء میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے بل کی ادائیگی کے لئے وزارت صنعت و پیداوار کے لئے 1.6 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

ای سی سی نے پی ٹی وی ملتان، آزاد جموں و کشمیر، انگلش نیوز چینل اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے 27 کروڑ 41 لاکھ 61 ہزار روپے، پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی بڑھانے کے لئے وزارت داخلہ کے لئے 57 کروڑ روپے، وزارت سمندری امور کے لئے پانچ کروڑ 63 لاکھ 41 ہزار روپے کی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔

اسی طرح پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے ملازمین کے اخراجات کی ادائیگی کے لئے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے، پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کی مد میں ریونیو ڈویژن کے لئے 2.467 ارب روپے، اٹامک انرجی کمیشن کے ملازمین کے اخراجات کی ادائیگی کے لئے 83 کروڑ 40 لاکھ روپے اور اٹامک انرجی کمیشن کی درخواست پر کراچی کوسٹل پاور پراجیکٹ یونٹ وَن اور ٹو کے لئے 49 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، اعظم سواتی، عمر ایوب خان، علی زیدی، سید فخر امام، محمد میاں سومرو، مشیران عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی تابش گوہر، ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here