نئی شراکت داری، پاکستان اور روس کی دوطرفہ تجارت میں 230  فیصد کا نمایاں اضافہ

جولائی 2020ء سے لے کر اپریل 2021ء تک پاکستان نے روس کو برآمدات سے 13 کروڑ 53 لاکھ ڈالر زرمبادلہ کمایا جبکہ روس سے درآمدات پر 53 کروڑ 55 لاکھ 90 ہزار ڈالر خرچ کیے، دونوں ملکوں میں باہمی تجارت کا مجموعی حجم 67 کروڑ ڈالر سے زائد رہا، سٹیٹ بینک

594

اسلام آباد: پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم میں جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 230.15 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جاری مالی سال 2020-21ء کے دس ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارت کا حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 20 کروڑ 29 لاکھ 60 لاکھ ڈالرسے بڑھ کر 67 کروڑ ڈالر سے زائد تک پہنچ گیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے 10 ماہ میں روس کو برآمدات سے پاکستان کو 13 کروڑ 53 لاکھ 10 ہزار ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 21.58 فیصد کا زیادہ ہے۔

اپریل کے مہینہ میں روس کو پاکستانی برآمدات کا حجم ایک کروڑ 55 لاکھ 50 ہزار ڈالررہا جو گزشتہ سال اپریل میں ایک کروڑ 24 لاکھ 60 ہزار ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں روس سے درآمدات میں 185.77 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور جولائی 2020 سے اپریل 2021ء تک روس سے درآمدات پر 53 کروڑ 55 لاکھ 90 ہزار ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال 18 کروڑ 74 لاکھ 10 ہزار ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اپریل کے مہینہ میں روس سے درآمدات کا حجم 98 لاکھ 40 ہزار ڈالر ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال اپریل میں روس سے درآمدات پر 93 لاکھ 60 ہزار ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا تھا۔

مالی سال 2020ء کے دوران روس کو پاکستانی برآمدات کا مجموعی حجم 13 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2020ء میں روس سے درآمدات کا حجم 21 کروڑ 82 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here