’یورپی شہری سالانہ 147 ارب ڈالر کی جعلی مصنوعات خرید رہے ہیں‘

یورپی یونین کے رکن ممالک کا ہر 10 میں سے ایک شخص جعلی مصنوعات خریدتا ہے، ان میں سے اکثر مصنوعات ایشیائی ملکوں سے درآمد شدہ ہوتی ہیں، رپورٹ

97

میڈرڈ: یورپی بلاک میں فروخت ہونے والی جعلی مصنوعات کی مالیت 147 ارب ڈالرتک پہنچ چکی ہے اور ہر 10 میں سے ایک شخص جعلی مصنوعات خریدتا ہے، ان میں سے اکثر اشیا ایشیائی ملکوں سے درآمد شدہ ہوتی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے سپین کے ساحلی شہر الیکانتے میں قائم مصنوعی ذہانت کے مرکز ای یو آئی پی او  کی ایک جائزہ رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ یورپ کا ہر دسواں شخص مارکیٹوں میں موجود جعلی مصنوعات کے چنگل میں پھنس جاتا ہے، کئی لوگ اصل اور نقل میں فرق کی کوشش بھی کرتے ہیں تاہم ناکام رہتے ہیں۔

ای یو آئی پی او اور ادارہ برائے اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کے مطابق جعلی مصنوعات کی زیادہ مقدار ایشیائی ممالک سے درآمد شدہ ہوتی ہے جو یورپی یونین کے رکن ممالک کی کل درآمدات کا 6.8 فیصد اور ان کی مالیت 121 ارب یورو یعنی 147 ارب ڈالر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جعلی مصنوعات کپڑے، الیکٹرانکس،کھلونوں اور وائن پر مشتمل ہیں، 9 فیصد یورپی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ خریداری کے دوران غیر متوقع طور پر جعلی مصنوعات کی خریداری بھی کر لیتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ جعلی مصنوعات کی صورت حال یورپی یونین کے مختلف ملکوں میں الگ الگ ہے، ان میں سپین 12 فیصد، فرانس 9 فیصد، بلغاریہ 19 فیصد اور سوئٹزرلینڈ دو فیصد کے ساتھ نمایاں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here