مستقبل کا راستہ: عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر حیاتیاتی سلسلہ کو آگے بڑھانے پر زور

پاکستان کو قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا سامنے کرنے والے 10 ممالک کی فہرست میں مستقل طور پر رکھا گیا ہے اور اس فہرست میں ہماری درجہ بندی میں بہتری آنے کے بجائے مستقل خرابی آتی جا رہی ہے

215
تصویر: گوگل

جب حکومتیں، کمپنیاں اور بین الاقوامی تنظیمیں مل کرپائیدار ترقی کیلئے کوششیں کرتے ہیں تو حیاتیاتی سلسلے کو درپیش خطرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ہم پاکستان کے ماحول کو جتنا نقصان پہنچاتے ہیں، اتنا ہی ہم لوگوں اور کمیونٹیزکی مدد کرنے کی فطری صلاحیت کو بھی کمزور کرتے ہیں۔لوگوں اور کمیونیٹیز کی فطری مدد ایک ایسا عنصر ہے جس سے معیارِ زندگی اور کاروباری خوشحالی میں بہتری آتی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی سلسلے میں کمی اور ماحولیاتی انحطاط کی خطرناک رفتارفوری طور پر ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف مقامی ماحولیاتی نظام اور انفرادی زندگیوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ غذائی تحفظ کے اہم امکانی امور، معاشروں، معیشتوں اور کمپنیوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔دنیا کو اس مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور کاپوریٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں اپنا کردارادا کریں۔

اس مسئلے پر ہر پاکستان کو اجتماعی اور انفرادی طور پر اہمیت دینی چاہیے۔ عالمی ماحولیاتی واچ ڈاگ جرمن واچ کے مطابق پاکستان کو بار بار آنے والی قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا سامنے کرنے والے 10 ممالک کی فہرست میں مستقل طور پر رکھا گیا ہے اور اس فہرست میں ہماری درجہ بندی میں بہتری آنے کے بجائے مستقل خرابی آتی جارہی ہے۔

اس سلسلے میں حکومت پاکستان مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سال عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی کی وجہ حکومت کے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس مسئلے کو عالمی چیلنج قرار دیا ہے۔ اور اسی سلسلے میں اقدامات کرتے ہوئے حکومت نے ایک ارب درخت لگانے شروع کیے جو پورے ملک میں دس لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے جنگل کو بحال اور بہتربنائیں گے۔ ان اقدامات سے ملازمتیں پیدا ہوں گی، کاربن کا اخراج کم ہوگا اور ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت کر فروغ ملے گا۔

قدرتی نقصان کے خلاف جنگ ہماری کاروباری ترجیح ہونی چاہیئے۔ عالمی معاشی خوشحالی اور انفرادی کاروبار کی کامیابی کیلئے فطرت سے ہم آہنگی ضروری ہے۔ اگر ہم فطرت، آب و ہوا اور لوگوں پر مربوط انداز میں توجہ نہیں دیتے تو ہم لوگوں او ر معیشتوں کے پائیدار مستقبل کا تحفظ نہیں کرسکتے۔موسمیاتی تبدیلی حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچانے کے سب سے اہم محرکات میں شامل ہے۔

معاشرے کے بہت سارے حصے فطرت پر ہماری سرگرمیوں کے اثرات کو سمجھنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کے باوجود آگاہی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو کم کرنے اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے شعور میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں کام کرنے والے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کو اپنی کوششیں تیز کرنے اورملک میں فطرت کے تحفظ اور فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر ہم موسمیاتی تبدیلی کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنا چاہتے ہیں تو اسٹیک ہولڈرز کواس انقلابی تبدیلی میں شامل کرنے کیلئے واضح  قومی اہداف کا تعین کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔حکومتوں، کاروباری اور مالیاتی اداروں کے مل کر کام کرنے سے انقلابی اور تغیر پذیر تبدیلی ممکن ہوسکے گی، نئے مواقع کھلیں گے اور ہر ایک صحت مند زندگی دنیا میں گذار سکے گا۔

انسانی معاشروں میں دنیا کی ماحولیاتی سرحدوں کے تحفظ کیلئے مستقبل میں جدید سلوشن اور اہم معاشی نمونہ منتقلی پر زور دیا گیا ہے۔ عوامی نمائندوں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کو  فطرت کے تحفظ کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

حیاتیاتی سلسلے پر دو تہائی سے زائد اثرات گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حیاتیاتی سلسلے کے حوالے سے ہماری موسمیاتی تبدیلی کی حکمتِ عملی میں نئی مطابقت آ رہی ہے۔ حیاتیاتی تنوع پر موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہمیں اپنے پورے آپریشن اور پورے سپلائی چین نظام میں صفر اخراج اہداف کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

آج ہماری ماحولیاتی اور استحکام کی حکمتِ عملی ہمیں حیاتیاتی تنوع پر اثرات کو کم کرنے پر زور دیتی ہے اور بجلی پر ہماری توجہ آئندہ پانچ سالوں میں صارفین کو 800 ملین ٹن بچانے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج سے بچنے میں مدد کرے گی۔ ہمیں پتہ ہے کہ ہم بہت بہتر کام کرسکتے ہیں اور ابھی بہت کچھ کرنے کا امکان موجود ہے۔

اداروں اور کارپوریشنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ سول سوسائٹی سے لیکر پالیسی سازوں تک ہر اسٹیک ہولڈر کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کریں۔ ہم نے کئی دہائیوں قبل ماحولیاتی طور پر مضبوط بننے کیلئے کام شروع کیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوسکا۔ہم کمپنیوں کو دوبارہ کام شروع کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔بین الاقوامی معاہدوں سے پہلے ہی نجی شعبہ حیاتیاتی تنوع کے اثرات کی پیمائش، فطرت اور کاروبار کے مابین باہمی انحصار کی سمجھ، خطرات کی نشاندہی اور عملی منصوبوں کی وضاحت پر کام شروع کیا جاسکتا ہے۔

حقیقی استحکام کی طرف سفر لمبا اور جزوی طور پر نامعلوم ہے پھر بھی دنیا کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم آج ہی اسی فورس میں شامل ہوکر برق رفتاری حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے معاشرے کو تبدیل کرسکتے ہیں۔آئیں عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر بطور ہم بزنس کمیونٹی اپنے کارپوریٹ حیاتیاتی سلسلے اور حیاتیاتی نظام کو برقرار رکھنے کا بیڑا اٹھانے کا عزم کرتے ہیں۔ مستقبل میں پاکستانیوں کی آنے والی نسلیں یا تو ہمارے اقدامات پر شکریہ ادا کریں گی یا اگر ہم ناکام ہو گئے تو ہمیں ان کے آگے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہم کامیاب ہوں گے اور اپنے ماحول کی خوبصورتی کو بحال رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here