سٹیٹ بینک کا زری پالیسی کا اعلان، شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

239

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پالیسی ریٹ کو سات فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں شرح سود سات فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ رواں مالی سال کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.94 فیصد لگایا جانا ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ شرح نمو میں اضافے سے نئے مالی سال کے آغاز کے بعد وسیع البنیاد معاشی بحالی کی تصدیق ہوتی ہے جس کا سبب بھرپور مالیاتی اقدامات اور بھرپور زری اعانت ہے۔

کمیٹی نے توقع ظاہر کی کہ ترقی اور نمو کی یہ رفتار برقرار رہے گی اور اگلے سال بلند تر نمو کا باعث بنے گی۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ فروری میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ماہ رمضان میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی۔

کمیٹی کے مطابق غذائی اشیا اور توانائی کو پہنچنے والے رسدی دھچکے اب بھی حاوی ہیں اور جنوری سے اب تک توانائی اور غذائی اشیا کی محدود تعداد مہنگائی میں لگ بھگ 3 چوتھائی اضافے کی ذمے دار ہے۔

مانیٹری پالیسی میں بتایا گیا کہ اس دوران شہروں میں مہنگائی 105فیصد بڑھی البتہ مہنگائی پر دباؤ قابو میں ہے، قیمتوں کا دباؤ چند اشیا پر ہے، اجرت نہیں بڑھی جس سے لاگت میں اضافہ رکا ہوا ہے اور مہنگائی کی توقعات معقول طور پر قابو میں ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے باعث امکان ہے کہ عمومی مہنگائی کی سالانہ شرح آئندہ مہینوں کے دوران بلند رہے گی جس کے نتیجے میں مالی سال 21 کی اوسط 7-9 فیصد کی اعلان کردہ حدود کے قریب پہنچ جائے گی۔

زری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ بحالی پختہ ہو جائے گی اور اپنے طور پر جاری رہے گی جبکہ پاکستان میں کووڈ-19 کی تیسری لہر سے پیدا ہونے والی ازسرنو بڑھی ہوئی غیریقنی مہنگائی اور مالی سال کے دوران متوقع مالیاتی استحکام کے پیش نظر یہ بات اور بھی درست ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here