وفاقی کابینہ کا اجلاس، پاکستان ٹیلی ویژن کے نئے بورڈ کی منظوری

کیپٹن (ر) منیر اعظم پاکستان ٹوبیکو کمپنی بورڈ کا چیئرمین تعینات، کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کرانے کا فیصلہ، وزارت دفاع کو شیڈول جاری کرنے کی ہدایت، بوسنیا کو کورونا سے مقابلہ کرنے کیلئے طبی سازوسامان اور ادویات بھجوانے کی منظوری

203
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے پہلے پیپرلیس اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ملکی تاریخ میں پہلے پیپرلیس اجلاس میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے نئے بورڈ کی منظوری دے دی۔

منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں زیادہ تر معیشت پر بات چیت ہوئی اور وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ برے حالات میں معیشت سنبھالی تھی جو اب استحکام کی جانب گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ میں کابینہ کا پہلا پیپرلیس اجلاس تھا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ میں اُن تمام بلوں کے بارے میں شق وار بتایا کہ کس طرح ہم آگے بڑھنے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: چینی سرمایہ کاروں کیلئے ویزہ کے خصوصی طریقہ کار کی منظوری

وفاقی وزیر نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابی اصلاحات کا اہم حصہ ہے، الیکشن کمیشن کے فیس بک پیج پر رپورٹ اور ٹویٹ پر کابینہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے اپنی میڈیا ٹیم کے خلاف جو کارروائی کی ہے، اس کو منظرعام پر لانا چاہیے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز، پریس کلب اور پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے اپنے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اس کیلئے بھرپور تعاون کریں گے کیونکہ اس سے ووٹنگ مشین کا ٹیسٹ ہو سکے گا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا اور قومی دھارے میں لانا پی ٹی آئی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے، 85 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کے پاس نائیکوپ کارڈ ہے، الیکشن کمیشن کو فوری طور پر ان لوگوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

کابینہ اجلاس میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے نئے بورڈ کی منظوری دی گئی، سیکریٹری اطلاعات پی ٹی وی بورڈ کی چیئرپرسن ہوں گی، ڈائریکٹر جنرل ریڈیو اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر اس بورڈ کے ارکان ہوں گے۔

کابینہ نے ریحان حامد کو چیف ایگزیکٹو آفیسر حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی تعینات کر دیا، نیشنل ٹرانسمیشن ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں عارضی طور پر ڈپٹی ایم ڈی محمد ایوب کو تفویض کر دیں گئیں، اعزاز احمد کو منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی تعینات کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے لیکن وہ اگست میں ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

وفاقی کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب سے 29 اپریل 2021ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔

اجلاس میں پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی فاﺅنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی سمری موخر کر دی گئی، کیپٹن (ر) منیر اعظم کو پاکستان ٹوبیکو کمپنی بورڈ کا چیئرمین تعینات کر دیا گیا۔

کابینہ اجلاس میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا، اس کیلئے وزارت دفاع کو ہدایت کی گئی کہ وہ کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے۔

اجلاس میں بوسنیا کو کورونا وباء سے مقابلہ کرنے کیلئے معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کابینہ نے کووڈ سے متعلقہ طبی سازوسامان اور دیگر ادویات بوسنیا بھجوانے کی منظوری دی۔

میڈیا بریفنگ میں فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ کابینہ اجلاس موجودہ دور حکومت میں ہوئے، جمہوریت کا پرچار کرنے والوں کے ساتھ موازنہ کریں تو اصل صورت حال سامنے آ جائے گی۔

انہوں نے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2008ء کے بعد سے کابینہ کے کل 226 اجلاس ہوئے، پیپلز پارٹی کے دور میں کابینہ کے 67 اجلاس ہوئے اور مسلم لیگ (ن)، جو ووٹ کو عزت دو اور جمہوریت کا نعرہ لگا رہی ہے، نے اپنے دور میں 5 مئی 2013ء سے 30 جون 2016ء تک تین سالوں میں کابینہ کے صرف 23 اجلاس منعقد کئے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں ایک بھی کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ ادارہ جاتی اصلاحات، سرکاری ملکیتی اداروں، معاشی اصلاحات، سی پیک اور نجکاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے دور میں 6 اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں 21 اجلاس ہوئے۔ اس موازنہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت فیصلہ سازی میں بہتر طریقے سے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، اس جماعت نے نظرثانی کی درخواست دی، جس کیلئے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے طریقہ کار کے ذریعے وزارت داخلہ کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت کرتی ہے اور پھر اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرتی ہے، اس کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا جبکہ ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کا خیرمقدم کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ترکی اور سعودی عرب اور ایران اور سعودی عرب کے تعلقات پر اپنی واضح رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ مسلم امہ کے مابین رنجشیں کم ہونے سے ہی استحکام آئے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here