ریکوڈک کیس میں پاکستان کی بڑی قانونی فتح، پی آئی اے کے منجمند اثاثے واپس مل گئے

برٹش ورجن آئی لینڈ کی ہائی کورٹ نے پاکستان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے پی آئی اے کی زیر ملکیت روز ویلٹ ہوٹل نیو یارک اور سکرائب ہوٹل پیرس واپس کر دیے، ٹیتھیان کوپر کمپنی کو مقدمہ بازی پر اٹھنے والے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیدیا

584

لاہور: برٹش ورجن آئی لینڈ کی ہائی کورٹ نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے ) کے اثاثے بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان کو پی آئی اے کی زیر ملکیت روز ویلٹ ہوٹل (نیو یارک) اور سکرائب ہوٹل (پیرس) واپس مل گئے ہیں، تاہم ٹیتھیان کاپر کمپنی اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتی ہے۔

عدالت نے پاکستان کے خلاف دسمبر 2020ء کا اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ٹیتھان کاپر کمپنی کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ پاکستان کے قانونی چارہ جوئی پر اٹھنے والے اخراجات بھی ادا کرے گی۔

اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) خالد جاوید کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے ٹیتھان کاپر کمپنی کی عملدرآمد درخواست خارج کر دی ہے اور اس کے بعد روزویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکرائب ہوٹل پیرس میں لگائے ریسیور ہٹا دیے گئے ہیں۔

پس منظر

یاد رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو ایک معاہدے کے تحت بلوچستان میں سونے، چاندی اور تانبے کے ذخائر تلاش کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا تاہم سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک فیصلے کے ذریعے 2013ء میں ٹی سی سی کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر کمپنی نے عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) میں پاکستان کے خلاف مقدمہ کیا تھا جس نے جولائی 2019ء میں پاکستان پر پانچ ارب 97 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا۔

یہ رقم پاکستان کو ملنے والے آئی ایم ایف بیل آئوٹ پیکج کے برابر تھی ، جس وقت یہ بھاری جرمانہ ہوا تب خزانہ خالی تھا، پاکستان کی جانب سے اتنی بڑی رقم کی عدم ادائیگی پر ٹیتھیان کاپر نے ریاست کے غیرملکی اثاثے اپنے حق میں ضبط کرانے کیلئے برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت سے رجوع کیا جسے منظور کر لیا گیا۔

لیکن پاکستان نے جرمانے کی ادائیگی کے خلاف  گزشتہ سال ستمبر میں حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا، اس وقت وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے پر تحقیقاتی کمیشن بھی بنایا تھا۔

دوسری جانب حکومت پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس کے فیصلے کے خلاف 16 مارچ 2021ء کو نظرثانی کی درخواست کی گئی تھی جو اب بھی زیر سماعت ہے۔

ریکوڈک کیا ہے؟

ریکوڈک بیش قیمت معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان کے ضلع چاغی کا ایک دور دراز علاقہ ہے۔ ریکوڈک بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’ریت کا ٹیلہ‘ ہے۔

یہ علاقہ ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹرز دالبندین سے 200 کلومیٹر جبکہ پاک ایران تافتان سرحد سے 60 سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ریکوڈک کا علاقہ ٹیتھیان میگنیٹیک آرک کا حصہ ہے، یہ میگنیٹک آرک مرکزی اور جنوب مشرقی یورپ سے ہوتے ہوئے ترکی، ایران اور پاکستان سے ہوتے ہوئے میانمار، ملیشیا، انڈونیشیا اورپاپوا نیوگنی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ سارا علاقہ تانبے اور سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے۔

 فیصلے پر ردعمل

پاکستان کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد سینیٹر فیصل جاوید نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’پاکستان کو بڑی کامیابی کی مبارک باد، برٹش ورجن ہائی کورٹ نے پی آئی اے کے خلاف سابق احکامات منسوخ کرکے روزویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکرائب ہوٹل پیرس بحال کر دیے، مقدمہ کے اخراجات بھی پاکستان کو ملیں گے، ویل ڈن اٹارنی جنرل آف پاکستان۔‘

پی آئی اے کی جانب سے اس فیصلے کو پاکستان کیلئے بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ہماری مشترکہ کامیابی ہے، ائیرلائن کے بیرون ملک اثاثے واپس کر دیے گئے ہیں۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ائیر مارشل (ر)  ارشد ملک نے ریکوڈک کیس کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محب وطن پاکستانیوں کی دعاؤں سے انصاف کی فتح ہوئی اور پی آئی اے کی قانونی ٹیم، وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور مخلص اداروں کی ان تھک محنت سے یہ کامیابی ملی۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے قیمتی اثاثے محفوظ ہو گئے ہیں، یہ پاکستانیوں کی بہت بڑی جیت ہے۔ بے لوث قیادت کے تحت اسی جذبے اور مشترکہ کاوش سے کام جاری رہا تو اس ملک کو ترقی اور کامیابی سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here