اینگرو کا ڈیڑھ ارب ڈالر کا منصوبہ جو پاکستان کو پولی پروپلین کی پیداوار میں خود کفیل کر دے گا

پولی پروپلین اور پروپین ڈی ہائیڈروجی نیشن کے اس منصوبے کیلئے اینگرو نے ہنی ویل اور ڈبلیو آر گریس کے ساتھ بطور ٹیکنالوجی پارٹنر اشتراک کر لیا

436

کراچی: اینگرو کارپوریشن نے پولی پروپلین کی پیداواری سہولت کے قیام کیلئے ہنی ویل یو او پی (Honey UOP) اور ڈبلیو آر گریس اینڈ کمپنی (WR Grace & Co) کی لائسنس یافتہ ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے شراکت دار کے طور پر انتخاب کر لیا۔

اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ڈیڑھ ارب ڈالر کا یہ منصوبہ پاکستان کو پولی پروپلین کی پیداوار میں خود کفیل کر دے گا، پولی پروپلین روزمرہ کے استعمال کی کنزیومر مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

ان مصنوعات میں وون بیگز، فوڈ اینڈ نان فوڈ پیکجنگ، فلمز، شیٹس، گھریلو کنٹینرز، بیٹری کیسنگ، کچن کا سامان، بجلی کا سامان، بوتلیں، کیپس، پائپ اور فٹنگز، طبی آلات اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔ ان اشیاء کی پیداوار کیلئے پولی پروپلین کی سالانہ طلب پانچ لاکھ ٹن ہے اور اس کی متوقع شرح نمو سات فیصد سالانہ ہے۔

معاہدے کے تحت ہنی ویل اپنی سی تھری اولفلیکس (C3 Oleflex) ٹیکنالوجی اور بنیادی انجنیئرنگ ڈیزائن کی فراہمی کے علاوہ پلانٹ کیلئے سازوسامان بھی فراہم کرے گی۔

2011ء کے بعد سے دنیا بھر میں زیادہ تر نئے ڈی ہائیڈروجی نیشن پراجیکٹس یو او پی سی تھری اولیفلیکس ٹیکنالوجی پر تیار کیے جا رہے ہیں تاہم سی تھری اولیفلیکس ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان میں پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہے۔

ڈی ہائیڈروجی نیشن کے مقابلے میں کم لاگت اور سرمایہ کاری پر زیادہ منافع کیلئے اس ٹیکنالوجی کو ڈیزائن کیا گیا ہے، اس میں توانائی کی کم کھپت، مضر مادوں کا کم اخراج اور ری سائیکلنگ کی صلاحیت کے علاوہ پلاٹینیم امونیا پر مبنی کیٹالسٹ سسٹم ماحول پر منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

نئی شراکت داری کا اعلان کرتے ہوئے اینگرو کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیاث خان نے کہا کہ اس منصوبے کیلئے ہم نے ہنی ویل اور گریس کو ان کے وسیع تجربے کی بنیاد پر اپنے ٹیکنالوجی شراکت دار کے طور پر منتخب کیا ہے کیونکہ دونوں کمپنیوں نے عالمی سطح پر اس طرح کے منصوبوں کے قیام میں مدد فراہم کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سب سے بڑی درآمدات میں سے ایک پیٹرو کیمیکلز بھی ہے جس کا درآمدی بل دو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، اسی طرح پولی پروپلین کی سالانہ درآمد پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ شراکت داری اُس منصوبے کیلئے پیشگی مطالعہ میں مدد فراہم کرے گی جو اینگرو اور پاکستان کیلئے پولی پروپلین کی درآمد کے متبادل کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے اور زرِمبادلہ کی بچت میں معاون ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے پیٹروکیمیکلز منظر نامے میں انقلابی ثابت ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here