اپریل میں تیل کی عالمی طلب میں ایک لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کمی ہوئی، آئی ای اے

رواں سال کے آخر تک خام تیل کی طلب بڑھ کر 99.6 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے جو 2019ء کی آخری سہ ماہی کی سطح 100.6 ملین بیرل یومیہ سے کچھ زیادہ کم نہیں، عالمی ادارہ برائے توانائی

78

پیرس: عالمی ادارہ برائے توانائی (آئی ای اے) نے کہا ہے کہ اپریل کے دوران خام تیل کی عالمی طلب میں ماہانہ بنیاد پر اوسطاََ ایک لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کمی ہوئی جس کی وجہ بھارت اور دیگر کئی ملکوں میں کورونا وائرس کی شدت کے باعث تیل کی طلب کم ہونا ہے۔

آئی ای اے کی جانب سے بدھ کو جاری رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث خام تیل کی عالمی طلب اپریل کے دوران بھی متاثر رہی اوراس میں مارچ کی نسبت اوسطاََ یومیہ ایک لاکھ 30 بیرل کمی آئی تاہم دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ویکسی نیشن کی وجہ سے سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران تیل کی طلب مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خام تیل کی عالمی طلب میں کمی کی بڑی وجہ بھارت اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں کورونا وائرس کی شدت ہے جس نے یورپ اور امریکا جیسے خطوں میں ہونے والی اقتصادی بہتری کے اثرات کو بھی زائل کر دیا ہے۔

 آئی اے ای نے رواں سال تیل کی مجموعی عالمی طلب کے پیشگی اشاریے میں کمی کرتے ہوئے اس کی طلب میں صرف 5.4 ملین بیرل یومیہ اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ کورونا وائرس سے قبل کی سطح کے قریب جا رہی ہے۔

عالمی توانائی ادارے نے کہا ہے کہ رواں سال کے آخر تک خام تیل کی طلب بڑھ کر 99.6 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے جو 2019ء کی آخری سہ ماہی کی سطح 100.6 ملین بیرل یومیہ سے کچھ زیادہ کم نہیں۔

عالمی ادارہ برائے توانائی نے تیل کی سپلائی میں اضافے بارے کوئی امکان ظاہر نہیں کیا کیونکہ اوپیک پلس ممالک پیداوار میں اضافے کے لیے ابھی تک تیار نہیں جس کی وجہ تیل  کی قیمتوں میں استحکام ہے۔

آئی اے ای کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس ملکوں نے اگر پیداوار میں کمی کا سلسلہ برقرار رکھا تو عالمی طلب و رسد میں رواں سال کی آخری سہ ماہی تک 2.5 ملین بیرل یومیہ کا فرق آ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران بھی مغربی ملکوں سے معاہدے کے نتیجے میں اپنی تیل کی پیداواری شروع کرتا ہے تو وہ بھی رواں سال 1.7 ملین بیرل یومیہ تک ہی جا سکے گا چنانچہ اس صورت حال میں تیل کے نرخ بڑھیں گے جس کا فائدہ اوپیک پلس ملکوں کو اضافی آمدنی کی صورت ہو گا، یہ ملک ہی تیل کی عالمی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here