’حدیبیہ ملز کیس پاناما سے بھی بڑا، نئے حقائق سامنے آنے پر دوبارہ تفتیش کا فیصلہ کیا‘

حدیبیہ پیپر ملز کیس تقریباََ 1242 ملین روپے کے فراڈ کی کہانی ہے، مقدمہ بند کرنے والے جج کے بھی بیرون ملک اثاثوں کا انکشاف ہوا، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بیان

467

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس تقریباََ 1242 ملین روپے کے فراڈ کی کہانی ہے جو پاناما پیپرز کیس سے بھی بڑی ہے، اس مقدمے میں کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں جس پر ازسرنو تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

منگل کو حدیبیہ پیپرز ملز کے خلاف کیس کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اپنے بیان میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اسحاق ڈار نے اس فراڈ میں شریف خاندان کی معاونت کیلئے فارن کرنسی کے جعلی بے نامی اکاﺅنٹس کھلوائے، پکڑے جانے پر اسحاق ڈار وعدہ معاف گواہ بنے اور انہوں نے متعلقہ حکام کو اپنا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کروایا مگر بعد میں یہ کہہ کر منحرف ہو گئے کہ بیان زبردستی لیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس فراڈ کیلئے بہت ہی زبردست طریقہ اختیار کیا گیا، حدیبیہ پیپر ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ریکارڈ کی پڑتال کے دوران نیب اسلام آباد کے تحقیق کاروں پر یہ انکشاف ہوا کہ 97۔ 1996ء اور 98۔ 1997ء کے دوران کمپنی کے کھاتوں میں بالترتیب 30.499 ملین اور 612.273 ملین روپے بطور شیئر ڈیپازٹ ظاہر کئے گئے ہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق وہ کمپنی، جس کا اس سرمایہ کاری سے قبل حجم محض 95.7 ملین روپے اور مجموعی خسارہ 809.834 ملین روپے تھا، میں اتنی بھاری رقوم کی آمد نے تحقیق کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا، چنانچہ نیب نے 1999ء کے نیب آرڈیننس کے تحت معاملے کی پڑتال کے احکامات صادر کر دیئے۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ ملز انتظامیہ جو میاں محمد شریف، شمیم اختر، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مریم صفدر، صبیحہ عباس، حسین نواز اور حمزہ شہباز پر مشتمل ہے، کی تجوریوں میں بھاری بھر کم غیرقانونی سرمایہ موجود ہے اور وہ اس دولت کے ذرائع بتانے سے قاصر ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے منی لانڈرنگ کیلئے 1992ء کے دی پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ کی مختلف شقوں کا سہارا لے کر دھوکے سے فارن کرنسی کے مختلف جعلی اکاﺅنٹس کھولے اور بہت سی دولت ان کھاتوں میں جمع کروائی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب جعلی اکائونٹس کا بھانڈا پھوٹ گیا تو انہوں نے یہ پیسہ حدیبیہ پیپر ملز کے اکاﺅنٹس میں اس طرح براہِ راست ڈالنے کا فیصلہ کیا، اس مقصد کیلئے انہوں نے  حدیبیہ ملز کے اکائونٹس کیلئے بیرونی کرنسی کی مالیت کے برابر مختلف ڈالر ٹیلی گرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز) کا بندوبست کیا۔

فواد چوہدری کے مطابق یہ عمل بالکل اسی طرح کیا گیا جیسے ابھی شہباز شریف اور مریم نواز کی رقوم پاکستان سے باہر بھیجی گئیں، 1242.732 ملین روپے اچانک شریف فیملی کے اثاثوں میں آ گئے، یہ رقم پاناما سکینڈل سے بھی بڑی تھی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیب نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ مذکورہ واردات کے ذریعے شریف خاندان کے ان نامزد افراد نے منی لانڈرنگ اور اثاثے چھپانے جیسے گناہ ہی نہیں کئے بلکہ یہ بہت سے ریاستی و حکومتی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں جب یہ معاملہ احتساب عدالت کے روبرو آیا تو کیس کے دوران ہی شریف فیملی نے مشرف کے ساتھ ڈیل کی اور سعودی عرب چلے گئے، 09۔ 2008ء میں معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مک مکا نے کیس پھر رکوا دیا۔ کہا گیا کہ یہ کیس اس نہیں چل سکتا کیونکہ چیئرمین نیب کے دستخط نہیں ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق شریف خاندان نے کارروائی کو لاہور ہائی کورٹ کے روبرو چیلنج کیا تو دو رکنی ڈویژن بنچ نے ایک ایک سے منقسم فیصلہ سنایا۔ یوں معاملہ ریفری جج کے پاس چلا گیا جس نے مقدمے کی بندش کا فیصلہ کرنے والے ڈویژن بنچ کے جج کی رائے کی حمایت میں فیصلہ دیا اور مقدمہ 2014ء میں بند کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ تھی کہ اتنی تفصیلی تفتیش کے بعد اس کیس کا ایک دن بھی عدالتی ٹرائل نہیں ہوا، جس جج نے کیس بند کرنے کا فیصلہ دیا، پاناما سکینڈل میں انکشاف ہوا کہ ان جج صاحب کے اپنے اثاثے بھی بیرون ملک تھے، بدقسمتی سے اس جج کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس مقدمے میں اب کچھ نئے حقائق بھی سامنے آئے ہیں جن پر نئی تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے، امید ہے عدلیہ ان ججوں کیخلاف بھی کارروائی کرے گی جنہوں نے شریف فیملی کی معاونت کی۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے وابستہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here