جنوری 2020ء کے بعد جاز کیش سے پاکستانی فری لانسرز نے 4 ارب روپے کی ترسیلات کیں

547

اسلام آباد: اگرچہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن اور پابندیوں کی وجہ سے کاروباروں اور تجارت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ہے لیکن مائیکروفنانس سیکٹر کی شرح نمو اور بڑھوتری میں بہتری آئی ہے کیونکہ جنوری 2020ء سے لے کر پاکستانی فری لانسرز نے 4 ارب روپے کمائے ہیں۔

اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور صدر موبی لنک مائیکروفنانس بینک غضنفر اعظم نے کہا کہ موجودہ صورت حال کے تحت آئی ٹی پروفیشنلز کی طرف سے فری لانسنگ میں اضافہ ہوا ہے لیکن 100 ڈالر سے 500 ڈالر تک رکھنے والے چھوٹے اکاؤنٹس کو ترسیلاتِ زر کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔ ہم نے ان مسائل کا حل تلاش کی ہے۔

ملک میں آئی ٹی سیکٹر اور ای کامرس کو فروغ مل رہا ہے جبکہ لاک ڈاؤن اور پابندیوں کی وجہ سے تجارت کو مشکلات درپیش ہیں۔ پاکستان دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی چوتھی بڑی فری لانسنگ مارکیٹ ہے۔ تاہم جب رقوم کی وصولی کی بات آتی ہے تو فری لانسرز کو تاخیر اور اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ موبی لنک مائیکروفنانس بینک کی ایک ذیلی سہولت جاز کیش نے ایک امریکی فنانشل سروسز کمپنی پائیونیر کے ساتھ شراکت داری کی ہے جو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سروسز اور آن لائن منی ٹرانسفر کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

غضنفر اعظم کا کہنا تھا کہ “پائیونیر اور جاز کیش اکاؤنٹس کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد فری لانسرز کو جنوری 2020ء سے اب تک 4 ارب روپے سے زائد ترسیلات موصول ہو گئے ہیں، مزید یہ کہ انسانی مداخلت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کنیکٹویٹی بہتر کرنے سے ای کامرس کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔

ان کا کا کہنا تھا کہ بڑے بینکوں نے چھوٹی کمرشل مال بردار گاڑیوں اور موٹرسائیکلز وغیرہ کو قرض فراہم نہیں کیے لیکن مائیکروفنانس سیکٹر ایسی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ فوڈ سیکٹر سے لے کر عام اجناس تک ہوم بزنس کی سپلائی میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹیکنالوجی کی شمولیت نے اس طرح کے منصوبوں کے لیے قرض کی پروسیسنگ میں وقت، لاگت اور انسانی مداخلت کو کم کرنے میں مدد کی ہے مویشیوں یا مویشی گاڑیوں کو خریدنے کے لیے چھوٹے زرعی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

غضنفر اعظم نے کہا کہ اسی طرح جاز کیش نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک بزنس ایپ شروع کی ہے جس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایکوسسٹم کے مکمل فوائد محسوس کیے گئے۔

پاکستان میں ایس ایم ایز کی بڑھی تعداد ہے لیکن چند ہزار ہی ڈیجیٹل ادائیگی کرتے ہیں اور زیادہ تر کیش پر انحصار کرتے ہیں تاہم جاز کیش بزنس ایپ اس حوالے سے کافی مددگار ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here