پاکستان آنے والی بین الاقوامی پروازوں میں 80 فیصد کمی، سخت پابندیاں نافذ

نظرثانی شدہ ایئر ٹریول پلان 4 مئی اور 5 مئی کی درمیانی شب سے 19 مئی سے 20 مئی کی درمیانی شب تک موثر رہے گا

112

اسلام آباد: پاکستان نے کورونا کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور انتہائی نگہداشت کے نظام پر شدید دبائو کے پیش نظر بیرون ممالک سے آنے والی پروازوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری نظرثانی شدہ ایئر ٹریول ایڈوائزری کے مطابق اندرون ملک ایئر ٹریفک کی موجودہ صلاحیت میں 80 فیصد کمی کرکے اسے 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔

نظرثانی شدہ ایئر ٹریول پلان 4 مئی اور 5 مئی کی درمیانی شب سے 19 مئی سے 20 مئی کی درمیانی شب تک موثر رہے گا اور اس پلان پر 18 مئی 2021ء کو دوبارہ غور کیا جائے گا۔ اس حوالے سے سول ایوی ایشن اپنا منصوبہ وضع کرے گی۔

کیٹیگری سی لسٹ میں شامل ممالک میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کو کمیٹی کی جانب سے روائتی طریقہ کار کے مطابق استثنیٰ کے تحت پاکستان کے سفر کی اجازت ہو گی۔

نظرثانی شدہ ایئر ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کیٹیگری سی فہرست میں موجود ممالک سمیت پاکستان میں داخل ہونے والے تمام مسافروں کیلئے اسٹینڈرڈ ہیلتھ اینڈ کووڈ پروٹوکولز پر عمل کیا جائے گا جس کے مطابق پاکستان سفر کرنے سے 72 گھنٹے پہلے منفی آر ٹی ۔ پی سی آر ٹیسٹ لازمی ہونا چاہئے۔

پاکستان میں ہوائی اڈوں پر ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹنگ ہوگی۔ منفی کیسز والے مسافروں کو 10 دن کے لئے گھر پر سخت ٹی ٹی کیو پروٹوکولز کے ساتھ خود کو قرنطینہ کرنا ہو گا۔ مثبت کیسز کے حامل افراد کو 10 روز تک قرنطینہ کیلئے ان کے اپنے خرچ پر صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو منتقل کر دیا جائے گا۔

دوسرا آر ٹی۔پی سی آر ٹیسٹ قرنطینہ کے عرصہ کے آٹھویں روز کیا جائے گا۔ منفی رزلٹ آنے کی صورت میں مسافر کو گھر جانے کی اجازت ہوگی تاہم اگر ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آتا ہے تو مسافر کو قرنطینہ کی اضافی مدت گزارنا ہو گی یا صحت حکام کی ہدایات کے مطابق مسافر کو ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پاکستان کا سفر کرنے سے قبل تمام مسافروں کیلئے پاس ٹریک ایپ پر رجسٹریشن کروانا لازمی ہے۔ ڈی پورٹ ہونے والے مسافروں کو پاس ٹریک ایپ پر رجسٹریشن سے استثنی حاصل ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو پی آئی اے کے ساتھ مل کر پاکستان آنے والے بین الاقوامی مسافروں کے 20 فیصد منصوبہ پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

نظرثانی شدہ ایئر ٹریول ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام مقررہ ہوائی اڈوں پر صوبائی ہیلتھ/ایئر پورٹ حکام کے ساتھ مل کر ملک میں آنے والے مسافروں کا ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ (آر اے ٹی) کیا جائے۔ صوبائی ہیلتھ حکام کے تعاون سے تمام بڑے ایئر پورٹس پر ہمہ وقت ہیلتھ اسٹاف کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ایئر پورٹس پر آر اے ٹی کٹس اور دیگر ایکوئپمنٹس و سہولیات کا مناسب اسٹاک برقرار رکھا جائے۔

نظرثانی شدہ ایئر ایڈوائزری میں داخلہ و صحت کے صوبائی محکموں سے کہا گیا ہے کہ وہ بڑے ہوائی اڈوں کے قریب کم از کم تین سے چار اعلیٰ یا درمیانے درجے کے ہوٹلز یا قرنطینہ سہولیات کا انتظام کریں۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی سہولت کے لئے راولپنڈی اور آئی سی ٹی انتظامیہ سے تعاون کریں۔

ایئر ٹریول ایڈوائزری میں ایوی ایشن ڈویژن، ایئر پورٹ انتظامیہ اور اے ایس ایف سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں آنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ میں صوبائی ہیلتھ اسٹاف کو سہولیات فراہم کریں۔ ایئر پورٹس کی حدود میں تمام مسافروں کے لئے انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ مثبت کیسز والے مسافروں کی ایئر پورٹ سے مقررہ قرنطینہ سہولیات تک منتقلی کے لئے صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔

ایوی ایشن ڈویژن مقررہ ایئر پورٹس پر اندرون ملک آنے والے مسافروں کے آپریشنز کو معمول کے مطابق رکھنے کے لئے تفصیلی ہدایات جاری کرے گا۔ وزارت خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی تارکین وطن کی معلومات کیلئے تمام پاکستان ہائی کمیشنز اور سفارت خانوں کو تک یہ معلومات پہنچائے۔

این ڈی ایم اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ این سی او سی کے ساتھ مل کر آر اے ٹی کٹس کی مناسب مقدار کی دستیابی کو یقینی بنائے جبکہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے کہا گیا ہے کہ وہ پاس ٹریک ایپ کی بلا تعطل اور مسلسل دستیابی کو یقینی بنائیں۔ ملک میں داخل ہونے والے مسافروں کیلئے انتظامی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو مسافروں کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here