9 ماہ میں چائے کی درآمد پر پاکستان نے 67 ارب روپے سے زائد زرمبادلہ خرچ کر دیا

473

اسلام آباد: جاری مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں پاکستان میں چائے کی درآمدات میں 15.64 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے لے کر مارچ 2021ء تک کی مدت میں چائے کی درآمد پر پاکستان نے 67 ارب 15 کروڑ 73 لاکھ 76 ہزار 300 روپے (43 کروڑ 50 لاکھ 98 ہزار ڈالر) کا زرمبادلہ خرچ کیا۔

یہ شرح گزشتہ مالی سال 2019-20ء کی تین سہ ماہیوں کے مقابلہ میں 15.64 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں چائے کی درآمدات پر 58 ارب 7 کروڑ 26 لاکھ 44 ہزار روپے (37 کروڑ 62 لاکھ 40 ہزار ڈالر) کا زرمبادلہ صرف کیا گیا تھا۔

مقدار کے لحاظ سے رواں مالی سال کے دوران چائے کی درآمدات میں 25.48 فیصد اضافہ ہوا اور 9 ماہ کے دوران ایک لاکھ 94 ہزار 962 میٹرک ٹن چائے درآمد کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ایک لاکھ 55 ہزار 372 میٹرک ٹن چائے درآمد کی گئی تھی۔

مارچ 2021ء میں چائے کی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 7.54 فیصد اضافہ ہوا اور 8 ارب 60 کروڑ 96 لاکھ 43 ہزار روپے (پانچ کروڑ 57 لاکھ 80 ہزار ڈالر) مالیت کی چائے درآمد کی گئی جبکہ مارچ 2020ء میں چائے کی درآمدات پر پاکستان نے 8 ارب 46 کروڑ 91 لاکھ 84 ہزار 500 روپے (پانچ کروڑ 48 لاکھ 70 ہزار ڈالر) کا زرمبادلہ صرف کیا گیا تھا۔

اسی طرح ماہانہ بنیادوں پر بھی چائے کی درآمدات میں اضافہ ہوا اور مارچ 2021ء میں 8 ارب 60 کروڑ 96 لاکھ 43 ہزار روپے (پانچ کروڑ 57 لاکھ 80 ہزار ڈالر) کی چائے بیرون ملک سے منگوائی گئی جبکہ فروری 2021ء میں چھ ارب 61 کروڑ 98 لاکھ 64 ہزار روپے (چار کروڑ 31 لاکھ 72 ہزار ڈالر) کی چائے درآمد کی گئی، جنوری 2021ء میں اس  مد میں سات ارب 70 کروڑ 25 لاکھ 77 ہزار روپے (پانچ کروڑ دو لاکھ 33 ہزار ڈالر) خرچ ہوئے تھے۔

جاری مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں اشیائے خوراک کی درآمدات میں مجموعی طور پر54.45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ برائے شماریات کے مطابق پاکستان میں سالانہ 60 سے 70 میٹرک ٹن چائے درآمد کی جاتی ہے اور ہر فرد سال میں  تقریباََ ایک سے ڈیڑھ کلو چائے استعمال کرتا ہے۔

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں شنکیاری کے مقام پر  50 ایکڑ اراضی پر یشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ قائم کر رکھا ہے جہاں 20 ایکڑ رقبے پر کاشت سے سالانہ پانچ سے آٹھ ٹن تک چائے تیار کی جا رہی ہے لیکن ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے اب بھی درآمدی چائے پر انحصار جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here