سرکاری ملازمتوں کا 32 فیصد کوٹہ جنوبی پنجاب کیلئے مختص کرنے کا فیصلہ

ملازمتوں کا کوٹہ مختص کرنے کیلئے سول سروسز ایکٹ میں ترمیم کی سمری تیار، مستقل سیکرٹریٹ کی تعمیر کیلئے اراضی کا تعین، عارضی دفاتر کیلئے عمارتوں کا حصول اور منتقل شدہ محکموں کو رواں مالی سال کے اختتام سے قبل مکمل فعال کر دیا جائے گا: وزیر خزانہ پنجاب

205

لاہور: صوبائی حکومت نے جنوبی پنجاب کو انسانی وسائل کی فراہمی کیلئے سرکاری ملازمتوں میں 32 فیصد کوٹہ مخصوص کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ کوٹہ جنوبی پنجاب کی تین ڈویژنز کیلئے مختص ہو گا۔

پرافٹ اردو کو معلوم ہوا ہے کہ جنوبی پنجاب کیلئے سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ مختص کرنے کیلئے سول سروسز ایکٹ میں ترمیم کی سمری تیار کی جا چکی ہے۔

جمعہ کے روز وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا کہ جنوبی پنجاب کے مستقل سیکرٹریٹ کی تعمیر کیلئے اراضی کا تعین، عارضی دفاتر کیلئے عمارتوں کا حصول اور منتقل شدہ محکموں کو رواں مالی سال کے اختتام سے قبل مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ’اب جنوبی پنجاب کا سالانہ ترقیاتی بجٹ علیحدہ سے رکھا جائے گا‘

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور فنڈز کے استعمال کی تفصیلات الگ کتاب کی شکل میں شائع کی جائیں گی جو اس بات کا ثبوت ہوں گی کہ موجودہ دور حکومت میں جنوبی پنجاب کے لیے مختص شدہ بجٹ وہاں ہی خرچ ہو۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاق سمیت پنجاب کی پوری کابینہ جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے پر عزم ہے، اس  ضمن میں رکاوٹ بننے والے تمام عناصرکی بھر پور انداز سے حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ ملازمتوں میں کوٹے کی تخصیص سے جنوبی پنجاب میں خدمات کی فراہمی کے لیے متعلقہ اضلاع سے ملازمین کی تعیناتی انتظامی امور میں بہتری کا سبب بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ سینٹ میں درکار اکثریت میسر ہوتی تو اب تک جنوبی پنجاب سے کیا گیا وعدہ پورا کر چکے ہوتے۔ الگ صوبے کے قیام تک خطے کے بنیادی مسائل حل کیے جا رہے ہیں جن میں وسائل کی کمی، سرکاری ملازمتوں میں مناسب نمائندگی اور پبلک سیکٹر کے مسائل کا مقامی سطح پر حل شامل تھا۔

ہاشم جواں بخت نے کہا کہ الگ سیکرٹریٹ کے قیام سے ناصرف جنوبی پنجاب کے انتظامی امور میں بہتری کے ساتھ سرکاری اداروں میں تعینات ملازمین کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی بلکہ لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے لاہور تک سفر نہیں کرنا پڑے گا۔

بجٹ2021-22ء سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کورونا کے سبب رواں مالی سال میں کاروبار کی بحالی اور عوام دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے 56 ارب سے زائد کا ٹیکس ریلیف دیا گیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی ایسے ہی اقدامات متعارف کروائے جائیں گے جو روزگار کی بحالی اور کاروبار کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔

پریس بریفنگ کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس کورونا سے تحفظ کے لیے وسائل موجود ہیں۔ محکمہ صحت کو پہلے بھی ضرورت کے مطابق بروقت فنڈز مہیا کیے جاتے رہے۔ آئندہ بجٹ میں بھی درکار وسائل مہیا کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب کے دو اضلاع میں انصاف ہیلتھ انشورنس کارڈ کی فراہمی کا عمل اسی سال مکمل کر لیا جائے گا جبکہ آئندہ مالی سال میں باقی کے تمام اضلاع میں بھی بلا تخصیص تمام مستحقین کو سہولت میسر ہو گی۔ ثانوی سطح کی شرائط پوری کرنے والے تمام سرکاری سکول اَپ گریڈ کر دئیے جائیں گے۔ تعلیم اور صحت آئندہ بجٹ میں بھی حکومت کی بنیادی ترجیحات کا حصہ ہوں گے۔۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here