ایس ای سی پی: کمپنیوں کی براہ راست لسٹنگ شروع کرنے کا فیصلہ

289

اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیوں کی براہِ راست لسٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپنیوں کے شئیرز عوامی پیشکش (پبلک آفرنگ) اور انٹرمیڈیریز کی لازمی تقرری کے کے عمل سے گزرے بغیر پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے ساتھ لسٹ کیے جائیں گے۔

ایس ای سی پی کے کنسیپٹ پیپر کے مطابق کمیشن نے براہِ راست لسٹنگ کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا ہے۔ مذکورہ تصور میں عوامی پیشکش اور نیو شئیرز کا اجراء شامل نہیں ہے اس لیے ایس ای سی پی کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے تاہم حصص کی لسٹنگ کے لیے پی ایس ایکس کی منظوری کی ضرورت ہو گی۔

ایس ای سی پی نے کہا کہ اس کا مقصد کمپنیوں خاص کر سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو لسٹنگ کی سہولیات اور کارپوریٹ سیکٹر میں گڈ گورننس کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ کسی بھی پبلک لمیٹڈ کمپنی کو کم از کم 200 ملین روپے سرمایہ جمع کرانا ہو گا جس کے ذریعے وہ کمپنی سٹاک ایکسچینج کے ساتھ اپنے شئیرز لسٹ کرنے کی اہل ہو گی۔

ایس ای سی پی کے مطابق ایسی کمپنی بھی براہِ راست لسٹ ہو سکتی ہے جس کے گزشتہ دو سالوں سے سالانہ آڈٹ کیو سی آر ریٹڈ آڈٹ فرم کی طرف سے کیے گئے ہوں۔ تازہ ترین آڈٹ اکاؤنٹس میں آڈیٹر کی طرف سے کسی بھی طرح کا منفی بیان نہ دیا گیا ہو جبکہ آڈٹڈ اکاؤنٹس ایک سال سے زائد پرانے نہ ہوں کو بھی براہِ راست لسٹ کیا جا سکتا ہے۔

کوئی بھی کمپنی ایکسچینج میں اپنے شئیرز کی براہِ راست لسٹنگ کے لیے کسی بھی کیٹیگری کا انتخاب کر سکتی ہے۔

براہِ راست لسٹنگ میں کوئی بھی انفرادی سرمایہ کار یا کاروبار شامل ہے۔ اس میں کمپنی کے موجودہ شئیرہولڈرز کی طرف سے انفرادی سرمایہ کار یا کاروبار کو شئیرز کی فروخت شامل ہے۔ صرف انفرادی سرمایہ کار یا کاروبار کمپنیوں کے شئیرز میں انویسٹ کر سکتے ہیں۔

ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ سپانسر، ڈائریکٹر، ملحقہ شئیرہولڈرز کے علاوہ کم سے کم شئیر ہولڈرز کی تعداد 10 ہونا ضروری ہے۔ براہِ راست لسٹنگ میں موجودہ شئیرہولڈرز شامل ہیں موجودہ شئیرہولڈرز کی جانب سے شئیرز فروخت کیے جاتے ہیں۔ صرف موجودہ شئیرہولڈرز ہی شئیرز فروخت اور خرید سکتے ہیں۔

نان سپانسر شئیرہولڈرز کی تعداد معین نہیں کی گئی۔ ایکسچینج کے ساتھ ایک خصوصی کیٹیگری بھی شامل کی گئی ہے خصوصی کیٹیگری کے سرمایہ کار شئیرز کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here