فضائی آلودگی عالمی معیشت کو سالانہ کتنے کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے؟

پونے سات ارب انسان فضائی آلودگی سے براہ راست متاثر، دنیا بھر میں ہر 10 میں سے 9 افراد غیرمحفوظ فضا میں سانس لے رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ

292

اسلام آباد: عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فضائی آلودگی بین الاقوامی معیشت کو سالانہ پانچ کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے اور اس سے زیادہ تر نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلودہ ہوا سے فصلیں اور سبزیاں تو متاثر ہوتی ہی ہیں لیکن اس سے حیاتیاتی تنوع میں بھی کمی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے، مزید برآں فضائی آلودگی کے نتیجے میں زمین کی زرخیزی بھی بری طرح متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر 10 میں سے 9 افراد غیرمحفوظ فضا میں سانس لے رہے ہیں اور دنیا بھر کے پونے سات ارب سے زائد افراد فضائی آلودگی سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

چین، لاک ڈاؤن سے فضائی آلودگی میں کمی، ہزاروں جانیں بچ گئیں

کورونا وائرس، لاک ڈائون کے باعث دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بعض اوقات فضائی آلودگی نظر آ رہی ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا لیکن گھر سے باہر قدم رکھنے والا دنیا کا تقریباً ہر شخص اس کا سامنا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی اس وقت دنیا کا ایک اہم مسئلہ ہے جو صحت کے متعدد مسائل کا باعث بن رہا ہے جس کے نتیجہ میں ایک سال کے دوران تقریباََ 70 لاکھ سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آلودگی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کا مشترک مسئلہ بن چکا ہے اور اس سے کم آمدنی والے اور ترقی پذیر زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس وقت دنیا میں فضائی آلودگی سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے کیونکہ فضائی آلودگی کے لیے ہماری سرحدیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

رپورٹ کے مطابق آلودگی کی وجہ سے فضا میں کاربن مونو آکسائیڈ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور اس کے علاوہ دیگر کئی قاتل اجزاء کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جو ہر سانس کے ساتھ ہمارے جسم میں شامل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ قاتل اجزاء اگر انسان کی زندگی کا خاتمہ نہ بھی کریں تو فضائی آلودگی سے اوسط زندگی کو کم از کم ایک سال کم ضرور کر دیتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ فضائی آلودگی کے مسائل کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here