بیوروکریسی کی وجہ سے پاکستان کے چھ کروڑ ڈالر گرانٹ سے محروم ہونے کا خدشہ

پاکستان نے عالمی ماہرین کیساتھ مل کر میٹرولوجیکل سسٹم کو جدید بنانے کا منصوبہ بنایا لیکن ڈی جی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے منصوبے کی مخالفت کر دی اور ملک کو عالمی ڈونر کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑی

322

اسلام آباد: پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے دی جانے والی گرانٹ اور رعایتی قرضوں کی مد میں چھ کروڑ ڈالر (9 ارب 17 کروڑ 10 لاکھ روپے) کا نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ بیوروکریسی نے اپنے ذاتی مفادات کو مقدم رکھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے ورلڈ بینک کے ساتھ 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے رعایتی قرض پروگرام کا معاہدہ کیا، یہ قرض پاکستان ہائیڈرومینٹ اینڈ کلائیمیٹ سروسز پروجیکٹ کیلئے لیا جا رہا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اقدامات کیے جا سکیں اور اس کی منظوری سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی پی ڈبلیو) اور ایکنک نے دی تھی۔

اس پروجیکٹ کے تحت پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ایک مضبوط اور جدید وارننگ سسٹم بنائے گا جو ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ایوی ایشن اتھارٹی سمیت دیگر شعبوں خاص طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے کسانوں کو باخبر رکھنے کیلئے کام کرے گا۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کو چھ کروڑ ڈالر جبکہ بقیہ 12 کروڑ 80 لاکھ ڈالر صوبوں کو منتقل کیے جانے تھے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات کریں۔

اس حوالے سے محکمے نے ورلڈ بینک اور ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے ماہرین کے ساتھ مل کر پاکستان کے میٹرولوجیکل سسٹم کو جدید بنانے کیلئے ایک منصوبہ بھی بنایا تھا۔

تاہم ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے موجودہ ڈٓائریکٹر جنرل محمد ریاض نے اس منصوبے کی مخالفت کر دی کیونکہ انہیں منصوبہ بنانے والے ماہرین میں شامل کیا گیا اور نا ہی منصوبے کے نفاذ کیلئے ان کی خدمات حاصل کی گئیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈی جی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ دراصل اپنے تیار کردہ منصوبے پر کام کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے فنڈنگ بھی دستیاب نہیں، انہوں نے ماہرین کے تیار کردہ منصوبے کے پی سی وَن کی منظوری میں تاخیر کی اور نئے تعینات سیکریٹری ایوی ایشن شوکت علی کو اس حوالے سے گمراہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے چونکہ اس پروجیکٹ کے حوالے سے پاکستان اور ورلڈ بینک کے مابین معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اس لیے جب ڈی جی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے وزیر منصوبہ بندی اور وزیر اقتصادی امور کی زیرصدارت اجلاسوں میں منصوبے کی مخالفت کی تو پاکستانی حکام کو ڈونر ادارے کے عہدیداروں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑی۔

اقتصادی امور ڈویژن اور ورلڈ بینک نے پروجیکٹ پر کام کرنے میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے حالانکہ وزارت منصوبہ بندی نے ایوی ایشن ڈویژن کو خط لکھ کر منصوبے کا پی سی ون پیش کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

پرافٹ اردو کو معلوم ہوا ہے کہ ڈی جی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ محمد ریاض کی سرگومیوں کی وجہ سے ممکن ہے کہ ورلڈ بینک فنڈنگ منسوخ کر دے حالانکہ اسے رعایتی قرض سے گرانٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

پرافٹ اردو نے اس سارے معاملے پر موقف معلوم کرنے کیلئے سیکریٹری ایوی ایشن اور ڈی جی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم اس خبر کو شائع کرنے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here