کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل، شوکت ترین نئے وزیر خزانہ مقرر

172

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کی اہم وزارتوں میں ایک بار پھر سے ردوبدل کرتے ہوئے  حماد اظہر کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ مقرر کر دیا ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق سینیٹر شبلی فراز سے اطلاعات و نشریات کا قلمدان لے کر انہیں وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے جبکہ فواد چوہدری کو دوبارہ وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کر دیا گیا ہے۔

حماد اظہر، جو وزیر خزانہ بننے سے قبل وزیر صنعت و پیداوار تھے، کو وزیر توانائی تعینات کیا گیا ہے، اس سے قبل وزارت توانائی کا قلمدان عمر ایوب کے پاس تھا جنہیں اب وزیر اقتصادی امور مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح خسرو بختیار سے وزارت اقتصادی امور کا قلمدان لے کر انہیں صنعت و پیداوار کی وزارت تفویض کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے تین سالہ دور اقتدار میں تیسری بار کابینہ میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ چوتھی بار وزیر خزانہ کو تبدیل کیا گیا ہے۔

جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد جب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت بنائی تھی تو اسد عمر کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا جنہیں آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آئوٹ پیکج کے حوالے سے مذاکرات میں ناکامی پر اپریل 2019ء میں انہیں کابینہ سے الگ کر دیا گیا تھا۔

اسد عمر کی جگہ آئی ایم ایف میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ تعینات کی گیا تھا جنہیں 11 دسمبر 2020ء کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا اور وہ 28 مارچ 2021ء تک اس عہدے پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خاص طور پر سینیٹ الیکشن میں شکست سے دوچار ہونے پر 29 مارچ کو حفیظ شیخ سے بھی استعفیٰ لے لیا گیا اور ان کی جگہ حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تاہم محض 18 روز بعد ہی حماد اظہر کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا ہے۔

شوکت ترین کون ہیں؟

شوکت ترین معروف ماہر معاشیات اور بینکر ہیں، وہ بھی حفیظ شیخ کی طرح قومی اسمبلی کے رکن نہیں، تاہم وزیراعظم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر منتخب شخص کو چھ ماہ کیلئے وزیر مقرر کر سکتا ہے، شوکت ترین کو بھی بعد ازاں سینیٹر منتخب کرایا جا سکتا ہے۔

شوکت ترین کو 7 اکتوبر 2008ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں مشیر مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں سندھ کی سیٹ پر 27 جولائی 2009ء کو سینیٹر منتخب کرانے کے بعد وزیر خزانہ بنا دیا گیا لیکن 23 فروری 2010ء کو ‘مفادات کے ٹکرائو’ کی وجہ سے انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ وہ سلک بینک کے شئیر ہولڈر بھی تھے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزارت خزانہ میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل شوکت ترین سٹی بینک کے پاکستان میں کنٹری مینجر، حبیب بینک اور یونین بینک کے سربراہ اور دو بار کراچی سٹاک ایکسچیج کے چیئرمین رہ چکے تھے جبکہ وہ سلک بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا بھی حصہ تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here