بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیاں نجی سیکٹر کے حوالے کرنے کا فیصلہ

پنجاب سے تعلق رکھنے والی پانچ کمپنیاں آئیسکو، جیپکو، لیسکو، فیسکو اور میپکو 10 سال کے لیے نجی شعبے کو دی جائیں گی، سندھ کی حیسکو، سیپکو، کیسکو، خیبرپختونخوا کی پیسکو اور ٹیسکو کے صرف انتظامی معاملات نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تجویز

874

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی خزانے سے مالی بوجھ کم کرنے کیلئے بجلی کی دس تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے مںصوبے کو حتمی شکل دے دی۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق نجی شعبے کے حوالے کی جانے والی دس کمپنیوں میں سے پانچ کا تعلق پنجاب سے ہے جنہیں دس سالہ کنسیشن ایگریمنٹ پر نجی شعبے کو دیا جائے گا۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والی پانچ کمپنیوں میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جیپکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت بجلی کے 9 منصوبے مکمل

خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کو بجلی بیچنے کی بجائے صنعتوں کو فراہم کرنے کا فیصلہ

آئی ایم ایف کیساتھ کیے گئے وعدوں کی وجہ سے صنعتوں کیلئے بجلی 36 فیصد مہنگی ہونے کا امکان

رعایتی معاہدے کے تحت کمپنی 10 سال کے لیے جس فریق کو دی جائے گی اسے اپنے ذاتی وسائل سے بجلی کی تقسیم اور ترسیل سے متعلق انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

ذرائع کے مطابق نئے سرمایہ کار کو کمپنی کی کارکردگی بہتر بنانے اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے ٹرانسفارمرز کی تنصیب، اے بی سی بنڈل کیبل اور دیگر متعلقہ آلات کی دستیابی کیلئے سرمایہ کاری کرنا ہو گی، سرمایہ کار کو اس کی سرمایہ کاری پر مناسب منافع ملے گا۔

خسارے میں چلنے والی اور مالی طور پر کمزور دیگر پانچ کمپنیوں کے صرف انتظامی معاملات پانچ سالہ مدت کیلئے نجی شعبے کے سپرد کیے جائیں گے، ان کمپنیوں میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) شامل ہیں۔

انتظامی ٹھیکوں کے تحت حکومت مالی طور پر کمزور پانچ کمپنیوں کا ترسیلی انفراسٹرکچر بہتر بنانے، لائن لاسز کم کرنے اور صارفین سے ریکوری کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرے گی، انتظامی سرمایہ کار خسارے میں کمی اور ریکوری میں بہتری کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن میں اپنا مناسب وصول کریں گے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگرچہ سندھ سے تعلق رکھنے والی ڈسکوز کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا تاہم آمدن میں سے ایک معقول حصہ حکومت سندھ کو بھی جائے گا کیونکہ کمپنیوں کی نجکاری سمیت دیگر فیصلے اس کی رضامندی کے ساتھ کیے گئے ہیں۔

حیسکو اور سیپکو کے معاملے پر 15 اپریل کو کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جہاں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں کمپنیا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سندھ حکومت کے حوالے کی جائیں۔

شئیرنگ فارمولا کے تحت پہلے پانچ سال مذکورہ دونوں کمپنیوں کا خسارہ، سبسڈیز اور سرمایہ کاری پر اٹھنے والے اخراجات وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر برداشت کریں گی جبکہ آئندہ پانچ سال کے لیے سندھ حکومت کمپنیوں کے معاملات چلانے کی ذمہ دار ہو گی۔

دونوں کمپنیوں کے مالی نقصانات اور سبسڈی کا سالانہ حجم 100 ارب روپے ہے، جو وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے آئندہ  پانچ سال میں برابر خرچ کیا جائے گا۔

تاہم ذرائع نے بتایا کہ کمپنیوں کے کنٹریکٹ صوبائی حکومت کی بجائے نجی شعبے کے ہاتھ میں ہوں گے، اس لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کنسین اور مینجمنٹ ایگری منٹس کے فارمولے میں ‘پروونشل اینگل’ شامل کرنے کیلئے کابینہ کمیٹی برائے پاور کو خط لکھے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here