وزیراعظم نے سرگودھا میں ایک ہزار 175 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

128

سرگودھا: وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے تحت ایک ہزار 175 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا، سرگودھا میں چھ مقامات پر تین مرلہ کے کم لاگت گھر تعمیر ہوں گے۔

حکومت پنجاب اس منصوبے کے لئے اراضی اور دیگر سہولیات فراہم کرے گی جبکہ فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور نیشنل لاجسٹک سیل مشترکہ طور پر تعمیراتی کام کریں گی۔

بینک آف پنجاب اس منصوبے کے لئے مستحق افراد کو مورگیج کی سہولت دے گا جو اس کی قسط دے سکیں گے، نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی اس منصوبے کے تحت بننے والے گھر قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق افراد میں تقسیم کرے گی۔ اس منصوبے کے لئے حکومت کو 33 ہزار 528 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

بدھ کے روز سرگودھا میں ایک ہزار 175 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہائوسنگ کے شعبہ میں سرکاری سطح پر اتنا بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، تعمیرات کے شعبہ کے ساتھ 30 صنعتیں وابستہ ہیں، ان منصوبوں سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، صنعت کو فروغ ملے گا اور ملکی دولت میں اضافہ ہو گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں بینکوں سے پیسے والے ادمی کو قرض مل جاتا تھا لیکن تنخواہ دار اور محنت کش کے لئے اس کے حصول میں بہت مشکلات تھیں، ہم نے اس سلسلے میں حائل مشکلات دور کیں۔ عام آدمی کو بینک سے مورگیج کے لئے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے، بینکوں کو سربراہان اس سہولت کے لئے اپنے عملہ کی خصوصی تربیت کریں تاکہ یہ سہولت باآسانی دستیاب ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے شہروں کے ساتھ نیم شہری اور دیہاتی علاقوں میں یہ گھر بنائے جا رہے ہیں، ماضی میں محمد خان جونیجو کے دور میں شہروں سے دور دیہات میں گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔

عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے چھوٹے شہروں میں یہ منصوبہ ایک سال میں شروع کیا جا رہا ہے، ابھی 31 تحصیلوں میں یہ منصوبہ شروع کر رہے ہیں، انہوں نے پنجاب بنک کے سربراہ کو ہدایت کی کہ وہ قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے اپنے عملے کی خصوصی تربیت کریں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ اس منصوبے کے لئے ابتدائی طور پر 133 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جلد پنجاب کی 146 تحصیلوں تک اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کسی نے کمزور طبقہ کیلئے نہیں سوچا، موجودہ حکومت نے پہلی بار عام لوگوں کو گھروں کی فراہمی کیلئے قرضے دیئے، حکومت کا کام عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

جہانگیر ترین اور ان کی حمایت کرنے والے بعض ارکان کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ ارکان کی بات سننے کیلئے تیار ہیں لیکن سوا سال میں چینی کی قیمت میں 26 روپے کا اضافہ ہوا جس سے عوام کی جیب سے 126 سے 140 ارب روپے نکل کر شوگر ملز مالکان کی جیب میں چلے گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا کام عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، ہم نے جب ایف آئی اے سے اس معاملہ کی انکوائری شروع کرائی تو خوفناک چیزیں سامنے آئیں تو پتہ چلا کہ کیسے کارٹلز بنا کر یہ عوام کا خون چوستے ہیں، ٹیکس چوری کرتے ہیں، انڈر ڈیکلیئر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے کوئی تحفظات ہیں تو جائزہ لیا جا سکتا ہے لیکن قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، یہ نہیں ہو سکتا کہ غریب کیلئے الگ اور امیر کیلئے الگ قانون ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ طاقتور طبقہ ساری مراعات لے جاتا ہے، اصل نقصان طاقتور اور کرپٹ لوگ کرتے ہیں، جیلوں میں بند غریب لوگوں کی ساری چوری کو جمع کر لیا جائے تو دو، تین ارب روپے ہو گی لیکن صرف چینی کی قیمت بڑھنے سے چند شوگر ملوں نے اربوں روپے اضافی کما لئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here