’پاکستان مکمل ویکسی نیشن کرکے جی ڈی پی میں 6.7 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے‘

کورونا وائرس ویکسین پر اخراجات کے مقابلہ میں پاکستان کو سات گنا زیادہ معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں: عالمی بینک کی رپورٹ

241

اسلام آباد: کورونا وائرس سے تحفظ کی ویکسین پر ہونے والے اخراجات کے مقابلہ میں پاکستان سات گنا زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

عالمی بینک کی “ساﺅتھ ایشیا ویکسی نیٹ” رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے عوام کی کووڈ۔19 کی ویکسی نیشن سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 2.2 فیصد تا 6.7 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی ویکسین پر اخراجات کا تخمینہ دو ارب 30 کرؤر ڈالر لگایا گیا ہے تاہم عوام کی ویکسی نیشن کے ذریعے پاکستان مجموعی قومی پیداوار 14 ارب61 کروڑ ڈالر کے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 2025ء تک ترقی یافتہ ممالک ایک کھرب ڈالر اضافی ٹیکس جمع کر سکتے ہیں، مگر کیسے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عوام کی ویکسی نیشن پر ہونے والے اخراجات کے مقابلہ میں سات گنا زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ویکسی نیشن کا عمل بتدریج جاری ہے اور اب تک 15 لاکھ کے لگ بھگ افراد کو کورونا وائرس سے بچائو سے ویکسین لگائی چکی ہے۔ پاکستان ابھی تک دوست ملک چین سے ہی ویکسین حاصل کر رہا ہے اور محض چند لاکھ خوراکیں ہی خریدی ہیں۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ وباء پر قابو پانے کے نتیجہ میں معاشی شرح نمو میں اضافہ سے صرف ترقی یافتہ ممالک میں 2025ء تک ٹیکسز کی مد میں ایک کھرب ڈالر کی اضافی آمدن حاصل کر سکتے ہیں جس کی مدد سے ترقی پذیر اور کم آمدن ممالک کی مالی معاونت اور ویکسین پر سرمایہ کاری کیلئے زیادہ آمدنی حاصل ہو سکے گی۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی وباء پر قابو نہ پایا جائے تو اس وقت تک حکومتوں کی مالیاتی پالیسیوں کو لچک دار اور تعاون پر مبنی ہونا چاہیے، مالی معاونت کا یہ سلسلہ مختلف ممالک اور شعبہ جات کے لئے علیحدہ علیحدہ ہو سکتا ہے جو امداد حاصل کرنے والے کسی بھی ملک کی صورت حال پر منحصر ہو گا۔

آئی ایم ایف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وبا سے زیادہ متاثرہ طبقات کی معاشی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وبا سے زیادہ متاثر طبقات میں نوجوان، خواتین، اقلیتی برادری سمیت غریب آدمی اور غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے کم آمدنی والے ورکرز شامل ہیں۔

آئی ایم ایف نے پالیسی سازوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عالمی بحران کے دوران سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کئے جائیں اور متاثرہ طبقات تک معاونت کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے غیر حق دار عناصر کو سماجی تحفظ کے پروگراموں سے استفادہ کا موقع نہ دیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here