پاکستان میں سٹارٹ اپ کے فنڈنگ کے حصول کے لیے امریکی ڈگری کی ضرورت کیوں؟

سٹارٹ اپس کو سرمایہ فراہم کرنے والے سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستانی جامعات کے فارغ التحصیل سٹارٹ اپ بانیان کی نسبت غیر ملکی ڈگری رکھنے والے انٹرپرینوئرز، کاروباری خیال کی تشکیل، اسے بیان کرنے اور اس کے عملی مظاہرے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں

1102

جب آپ کا کاروبار نئی چیزیں بنانے کے پرانی چیزوں کو ختم کررہا ہوں تو آپ کے پاس اس بات کا پورا حق ہے کہ آپ یہ کہیں کہ آخر پُرانی چیزوں میں کیا برائی ہے اور انہیں توڑنے یا ختم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔

ٹوئٹر اور کلب ہاؤس کی بات کریں، یہ دونوں سوشل میڈیا ایپس ٹیکنالوجی سٹارٹ اپس کے بانیان اور سرمایہ کاروں میں انتہائی مقبول ہیں، وہاں تقریباً ہر روزانہ طویل بحث ہوتی ہے کہ کس طرح کسی کی کامیابیاں و دیگر خصوصیات اہمیت  نہیں رکھتیں بلکہ  صرف اس کا آئیڈیا اور اسے عملہ جامہ پہنانے کا طریقہ معنی رکھتا ہے۔

تمام اچھے جھوٹوں کی طرح یہ والا جزوی طور پر سچ ہے۔

اس میں سچ یہ ہے کہ بلکل کسی آئیڈیے کا معیار اوراسے ڈھنگ سے عمی جامہ پہنانے کا ارادہ  کسی بھی کاروبارکی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے مگر ایک اور چیز بھی بہت اہمیت کی حامل ہے اور وہ ہے پیسہ۔ اور پیسہ بنانے کے لیے، ایسا لگتا ہے، کہ وہ لوگ جو سرمایہ کاروں پر کنٹرول رکھتے ہیں، وہ پرانے طرز کی خصوصیات کو بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

اور جب بات میں کسی کاروبار کے لیے سرمائے کا حصول کی ہو تو ایک خصوصیت  سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور وہ ہے امریکہ سے حاصل کی گئی گریجوئٹ یا انڈر گریجوئٹ کی ڈگری۔  کالج اور یونیورسٹی جانے والوں میں سے صرف 0.45 فیصد پاکستانی ہی امریکہ کی ڈگری حاصل کرتے ہیں مگر پرافٹ کی جانب سے آئی ٹو آئی وینچرز i2i Ventures کے جمع کیے گئے ڈیٹا کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ سال 2015 سے 2020 تک کے عرصے میں سٹارٹ اپس کو ملنے والے فنڈز میں سے 46 فیصد ان سٹارٹ اپ مالکان کو ملے جن کے پاس امریکی ڈگری تھی۔ زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستانی ڈگری رکھنے والے سٹارٹ اپ مالکان کو صرف 16.4 فیصد فنڈز ملے۔

یہ مضمون  پاکستان میں ایک نئی صنعت میں مساوات کی عدم موجودگی کے نتائج بارے نہیں ہے بلکہ یہ تو اعداد و شمار کے پیچھے کارفرما عوامل کی جانچ پڑتا ل بارے ہے۔ یعنی ان اعداد و شمار کے اس انداز کے ہونے کی وجہ کیا ہے؟۔  عالمی سطح پر پاکستان کیسے موازنہ کرتا ہے اور کاروباروں میں سرمایہ لگانے والوں کے معیار پر پورا نہ اترنے والے سٹارٹ اپ مالکان پر اس چیز کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

ہمارے وہ دوست جن کا تعلق لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے ہے وہ ضرور یہ سوچ رہے ہونگے کہ کیا امریکہ سے تعلیم یافتہ ہونے کو ملنے والی ترجیح کے عام اصول سے انہیں کوئی استثنا حاصل ہے تو اس کا جواب  ہاں میں ہے ، لیکن کچھ اہم انتباہات کے ساتھ۔

طریقہ کار بارے ایک نوٹ :

 ڈیٹا سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لینے سے پہلے ہم یہ بتانا چاہیں کہ یہ ڈیٹا کس طرح جمع کیا گیا۔ سٹارٹ اپ فنڈنگ کے لیے ہم نے i2i وینچرز کی جانب سے ترتیب دیے گئے ڈیٹا بیس پر انحصار کیا اور  گزشتہ چھ سالوں میں سرمایہ کاروں  کی کاروباروں ( سٹارٹ اپس ) میں پیسہ لگانے بارے معلومات حاصل کیں۔  یہ ڈیٹا بیس یکم جنوری 2015 سے 30 دسمبر  2020 تک کے عرصے تک  سرمایہ کاری کی 173 ٹرانزیکشنز پر مشتمل تھا جو کہ 122 سٹارٹ اپس میں کی گئیں۔

ہم نے اس ڈیٹا میں سے ایسی ٹرانزیکشنز جن کی مالیت نہیں بتائی گئی تھی اور وہ ٹرانزیکشنز جن کے حوالے سے اہم معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں، جیسا کہ سٹارٹ اپس اور ان کے بانیان کے نام  کو نکال دیا۔ اس عمل کے بعد ٹرانزیکشنز کی تعداد 129 اور سٹارٹ اپس کی تعداد 96 رہ گئی۔ جبکہ اس عرصے میں پاکستانی شروعاتی منصوبوں ( سٹارٹ اپس ) کے لئے مجموعی طور پر 201 ملین ڈالر کی فنڈنگ ​​فراہم کی گئی ہے۔

ہم نے ان تمام 96 کمپنیوں کو ہونے والی فنڈنگ، جسے ظاہر کیا گیا تھا کو جمع کیا ( بد قسمتی سے اس میں ہم نے کچھ مارکی ٹرانزیکشنز جیسا کہ” دوائی” کی حالیہ فنڈنگ کو نکال دیا)۔ اس کے بعد ہم نے i2i وینچرز کی جانب سے ترتیب دی گئی بانیان کی فہرست کی طرف دیکھا۔ اس کے بعد ہم نے ان سٹارٹ اپس کو بھی اس فہرست میں سے نکال دیا جو ایک لاکھ ڈالر سے کم کی فنڈنگ حاصل کرسکیں تھیں یوں سٹارٹ اپس کی تعداد 80 رہ گئی جن کے بارے میں ہمارے پاس معقول انداز کا مکمل ڈیٹا تھا۔

اس کے بعد ہم نے ان 80 سٹارٹ اپس کے 148 بانیان کے لنکڈ ان پروفائلز کا جائزہ لیا اور ان کی تعلیم اور تجربے بارے جانا۔ایسے سٹارٹ اپ بانیان جن کے پاس پاکستانی اورامریکی دونوں ڈگریاں تھیں، ہم نے ان کی حالیہ غیر ملکی ڈگری کو شامل کیا ( تاہم لمز کے معاملے میں ہم نے یہ دیکھا کہ اس جامعہ کے طالب علم نے کب کوئی غیر ملکی ڈگری حاصل کی)۔

اس کے بعد ہم نے فنڈنگ کی رقم کو بانیان کی تعداد پر تقسیم کردیا تاکہ مختلف تعلیمی صلاحیت رکھنے والی بانیان کی ٹیموں کی صورت میں فنڈنگ کی سطح کو ممالک کے ساتھ منسلک کرسکیں۔ مثال کے طور پر مثال کے طورپر اگر کسی سٹارٹ اپ کو دس لاکھ ڈالر کی فنڈنگ ملی، جس کے دو بانیان کے پاس امریکی ڈگریاں اور دو کے پاس پاکستانی ڈگریاں تھیں تو اس دس لاکھ ڈالر میں سے پانچ لاکھ ڈالر امریکی ڈگری والے بانیان اور پانچ لاکھ ڈالر پاکستانی دگری والے بانیان کو ملے۔ ایک مثالی دنیا میں، ہمیں فنڈنگ میں کسی سٹارٹ اپ  ٹیم کے تمام بانیان کے حصے کا پتہ ہوتا اور ہم اس کے مطابق ہی ان کا تناسب طے کرتے۔ مگر یہ ڈیٹا آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا۔

سیریل بانیان کو اتنی مرتبی ہی شمار کیا گیا جتی مرتبہ انہوں نے سرمایہ اکٹھا کیا اور حاصل کی گئی رقم کو اس ملک  کے ساتھ منسلک کردیا گیا جہاں سے انھوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ ہمارے نزدیک یہ کسی کو دوبار گننے جیسا عمل نہیں تھا کیونکہ جتنی مرتبہ بھی کسی سیریل بانی نے پیسہ اکٹھا کیا اتنی دفعہ وہ پیسہ ان کے کاروبار کو ہی ملا نہ کہ کسی اور ممکنہ طورپر یہ رقم کسی اور کاروبار کو نہیں ملی۔

ذیل میں دیا گیا ڈیٹا اسی طریقہ کار تحت جمع کیا گیا۔

امریکیوں کا غلبہ :

اعداد و شمار واضح تصویر پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر آپ کے پاس امریکی ڈگری ہے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ اپنی پوری تعلیم پاکستان میں حاصل کرنے والے سٹارٹ اپ بانی کی نسبت فنڈز آپکو ملیں۔ جن 148 سٹارٹ اپ بانیان کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ان میں سے 80 یعنی  تقریباً 54 فیصد کی پوری تعلیم پاکستان کی تھی مگر کل فنڈنگ میں سے انہیں صرف 16.4 فیصد فنڈز ملے۔ دوسرے الفاظ میں 198 ملین ڈالر میں سے صرف 32.5 ملین۔ یاد رہے کہ یہ فنڈنگ 2015 سے  2020 تک کے عرصے میں کی گئی۔

اُدھر امریکی ڈگری رکھنے والے سٹارٹ اپ بانیان کی تعداد 35 تھی مگر انہیں کل فنڈنگ میں سے 46 فیصد فنڈز ملے۔ یوں امریکی ڈگری رکھنے والے ہر سٹارٹ اپ بانی کو 2.6 ملین ڈالر رقم ملی جبکہ پاکستانی ڈگری رکھنے والے ہر سٹارٹ اپ بانی کو 0.4 ملین ڈالر ملے۔

یہ اعداد و شمار اس وقت اور بھی حیران کن بن جاتے ہیں جب اس بات پر غور کیا جاتا ہے کہ کس طرح صرف چند ہی پاکستانیوں کے پاس امریکی ڈگری ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2018  ( وہ حالیہ سال جس کے بارے میں مکمل ڈیٹا دستیاب ہے ) میں ملک کی جامعات میں سولہ لاکھ طلبہ زیر تعلیم تھے۔ اُدھراقوام متحدہ کے ادارے  یونیسکو کے مطابق 2018 میں بیرون ملک 59 ہزار پاکستانی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ اعلی تعلیم کے درجے کو پہنچنے والے پاکستانی طلبہ و طالبات میں سے صرف 3.6 فیصد ہی کسی بھی وقت بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔ جو یہ جاننے کا ایک انتہائی فائدہ مند طریقہ ہے کہ کتنے فیصد پاکستانی اصل میں بیرون ملک رہ کر وہاں کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ ( اس تجزیے کے لیے ہم ان غیر ملکی ڈگریوں کو بھی شمار کررہے ہیں جو پاکستان میں رہتے ہوئے ڈسٹنس لرننگ کے ذریعے حاصل کی گئیں )۔

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ میں سے صرف 7 ہزار چار سو طالب علم ہی امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہیں ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کالج جانے والے پاکستانی طالب علموں میں سے صرف 0.45 فیصد کے پاس ہی امریکی ڈگری ہے۔ اس حقیقت کے باوجود، جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ گزشتہ چھ سالوں میں پاکستانی سٹارٹ اپس کو ملنے والے فنڈز میں سے 46 فیصد ان سٹارٹ اپس کو ملیں ہیں جن کے بانیان کے پاس امریکی ڈگریاں تھیں۔

صاف الفاظ میں بات کی جائے تو کسی سٹارٹ اپ کے لیے سرمایا اکٹھا کرنے میں کامیابی کے حوالے سے  امریکی ڈگری رکھنے والے پاکستانی کے امکانات صرف پاکستانی ڈگریاں رکھنے والے سٹارٹ اپ بانی کی نسبت 93 فیصد زیادہ ہیں۔

وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ کینیڈا کی ڈگری اہمیت میں امریکی ڈگری کے برابر ہے، وہ غلط ہیں۔ کم از کم جب کاروبار کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کی بات ہو تب۔ گزشتہ چھ سالوں میں امریکی ڈگری رکھنے والے پاکستانی  سٹارٹ اپ مالکان نے 91 ملین ڈالر کا سرمایہ اکٹھا کیا جبکہ کینیڈین ڈگری رکھنے والے پاکستانی سٹارٹ اپ مالکان نے اس عرصے میں صرف 3.75 ملین ڈالر ہی اکٹھے کیے۔ یہ دونوں رقوم ایک دوسرے سے بہت فاصلے پر ہیں۔

صرف پاکستانی ڈگریاں رکھنے والوں کے لیے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ دوسرے راؤنڈ میں غیر ملکی ڈگری رکھنے والے سٹارٹ اپ بانیان ان کی نسبت زیادہ آسانی سے فنڈنگ اکٹھی کرکے اپنے کاروبار کو پنپتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ i2i کے ڈیٹا میں شامل پانچ میں سے چار سٹارٹ اپس صرف اس لیے بند ہوگئے کیونکہ ان کے بانیان کی ٹیم میں سے کسی کے پاس بھی غیر ملکی ڈگری نہیں تھی۔

اگر آپ سرمایہ کاروں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ آپ پر ایک بار پھر اعتماد کریں تو یہ کام غیر ملکی ڈگری رکھنے والے سٹارٹ اپ بانیان کی نسبت ملکی ڈگری رکھنے والے سٹارٹ اپ مالکان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

کیا یہ غیر منصفانہ ہے یا امریکی بہتر ہیں ؟ :

بغیر کسی ٹھوس ثبوت اور دلیل  کے یہ کہنا یقیناً قبل از وقت ہے کہ آیا سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی ڈگری رکھنے والے پاکستانی سٹارٹ اپ مالکان اور ان کے منصوبوں پر بے انتہا اعتبار کرنا درست ہے۔ دراصل بات یہ ہےکہ کبھی بھی اتنی تعداد میں سرمایہ کار نہیں رہے کہ ہم یقین سے یہ جان سکیں کہ کیا کامیاب ہونے والے بانیان کی کامیابی میں کوئی خاص پیٹرن ہے یا نہیں۔

مگر بہت سے سرمایہ کار واضح طور پر( تعلیم حاصل کرنے کے بعد ) وطن واپس لوٹنے والے ( ہم لفظ واپستانی استعمال نہیں کرنا چاہتے ) پاکستانی سٹارٹ اپ بانیان کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

سرمایہ کار کے ربیل وڑائچ نے ایسے پاکستان میں سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے لیے ایسے پاکستانیوں کی واپسی کی اہمیت پر بات کی ہے جبکہ انڈس ویلی کیپیٹل کے عاطف اعوان نے ایک قدم آگے بڑھ کر تارکین وطن کو ملک میں  واپسی میں مدد فراہم کرنے کا ایک پروگرام ترتیب دیا ہے۔

بلاشبہ یہ بھی کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ زیادہ تر پاکستانی سرمایہ کار امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ ربیل وڑائچ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) ،عاطف اعوان اربن چیمپین کی الینوائے یونیورسٹی ، i2i وینچرز کی کلثوم لاکھانی ورجینیا یونیورسٹی  ، لکسن انویسٹمنٹ وینچر کیپیٹل کے فیصل آفتاب مشنی گن اور فاطمہ گوبی کے علی مختار یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے تعلیم یافتہ ہیں۔

تو کیا یہ سرمایہ کار محض اپنے تعصب کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں یا واقعی میں امریکی ڈگری رکھنے والے پاکستانی سٹارٹ اپ مالکان کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی کوئی ٹھوس وجہ ہے؟۔

(اس مضمون کے  اگلے کچھ پیراگراف میں کچھ تعصب نظر آسکتا ہے کیونکہ راقم مضمون خود ایک ایسے پاکستانی  ہیں جو امریکہ سے اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے حال ہی میں اپنے فن ٹیک سٹارٹ اپ کے لیے سرمایہ اکٹھا کیا ہے)

سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکہ سے تعلیم یافتہ سٹارٹ اپ مالکان کو ترجیح دینے کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہےکہ وہ بندہ جو امریکہ سے تعلیم حاصل کرسکتا ہےوہ اپنے سٹارٹ اپ کو ایک کامیاب ابتدا دکھانے کے لیے ابتدائی نقصان برداشت کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہے۔  یا یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے ایسے تعلیمی اداروں میں برسوں گزارے ہوتے ہیں جو ان کی قدرتی صلاحیتوں کو ان حد تک سنوار دیتے ہیں کہ انہیں دوسروں پر برتری حاصل ہوجاتی ہے۔

ایک اور زاویے سے اس بات کو سمجھیے  کہ کیوں امریکہ سے تعلیم یافتہ سٹارٹ اپ مالکان ہی ساری فنڈنگ لے اُڑتے ہیں؟۔ پہلا تو یہ کہ ایسے افراد کے والدین یقیناً اتنے امیر ہونگے کہ وہ امریکی یونیورسٹیوں کی پوری فیس ادا کرسکتے ہونگے جو کہ اب برطانوی اور کینیڈین یونیورسٹیوں کی فیس کی نسبت دوگنی ہوچکی ہے۔ لہذا خاندانی وسائل کے سر پر یہ نوکری چھوڑ کر اپنے خود کے سٹارٹ اپ آئیڈیا پر کام شروع کردیتے ہیں اور جلد ہی وہ مقام حاصل کرلیتے ہیں جو سرمایہ کار بھاری سرمایہ کاری سے پہلے دیکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آپ کے والدین شائد امیر نہیں تھے مگر بہرحال مالی طور پر ٹھیک تھے اور آپ کو پاکستان میں امریکی تعلیمی اداروں کے فیڈر اسکولوں میں داخل کروانے کے قابل تھے۔ ہر سال تقریباً آٹھ سو پاکستانی سٹوڈنٹ بیچلر ڈگری کے لیے امریکہ جاتے ہیں اور محتاط انداز میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں سے آدھی تعداد کراچی گرائمر سکول، ایچی سن کالج، لاہور گرائمر سکول اور بیکن ہاؤس مارگلہ کیپمس کے طالب علم ہوتے ہیں۔

ان سکولوں میں پڑھنےوالے بچوکے دماغ باقی ملک کے بچوں سے الگ خصوصیات کے مالک نہیں ہوتے۔ مگر انہیں  ایسے والدین میسر ہوتے ہیں جو اس خواہش سے لبریز ہوتے ہیں کہ ان کے بچوں کی صلاحتیں اپنے بھرپور انداز کو پہنچیں۔ پیدائش کے وقت ایک جیسی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بڑے ہونے پر ایک جیسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے مگر جب ان میں سے ایک کو دو دہائیوں تک دوسرے سے زیادہ توجہ اور وسائل فراہم کیے جائیں گے تو وہ پیدائش کے وقت کے اپنے ساتھیوں سے کہیں زیادہ ہوشیار اور ذہین بن جائے گا۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ا مریکا جانے والے طلبہ ملک کے ذہین ترین طالب علم ہوتے ہیں۔  یہ لوگ پڑھائی کے لیے امریکا کا انتخاب کیوں کرتے ہیں؟۔  اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اعلی تعلیم کے امریکی اداروں میں پڑھنے کا وقار سب سے الگ اور زیادہ ہے۔ یہ بلکل ایسا ہی ہے کہ کہا جائے کہ ہارورڈ ہر زبان میں ہارورڈ ہی ہے۔

اس کے علاوہ امریکا کی اک اور خاص بات اس کا انٹرپرینوئر کی سرزمین اور سیلی کون ویلی اور ہر بڑی ٹیکنالوجی کمپنی، جس کے بارے میں آپ نے سن رکھا ہوگا،  کا گھر ہونا  اور ایسی جگہ ہونا ہے جہاں مستقبل نہ صرف بنایا جاتا ہے بلکہ باقی دنیا کو برآمد بھی کیا جاتا ہے ۔  بھلےاس ملک میں سماجی تحفظ کا نظام صورتحال کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسا فیاضانہ نہیں ہے مگر پھر بھی یہاں کے بالائی متوسط طبقے کی آمدنی دیگر بلند آمدنی والے ملکوں کے اپنے ساتھی طبقے سے زیادہ ہے۔

یہ بات کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔کریڈٹ سوئس کے ڈیٹا کے مطابق، ایک یورپی بالغ شہری کی اوسط مالی قدر ڈیڑھ لاکھ ؕدالر ہے جبکہ امریکہ میں یہ ساڑھے چار لاکھ ڈالر ہے۔ امریکا ایک زیادہ خطرے اور زیادہ فائدے والا ملک ہے اور اگر آپ دماغ اور ارادے سے لیس ہیں تواس ملک میں ان کی بنیاد پر خطرہ اُٹھانا کافی بہتر ہوسکتا ہے۔

لہذا اس مں کو ئی دو رائے نہیں کہ پاکستان او دنیا کے کسی دوسرے حصے کے ذہین ترین طلبہ، جو کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں، عام طور پر انکا انتخاب امریکا ہی ہوتا ہے۔ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کالج جانے والے عام پاکستانی طلبہ کا کوئی گروہ نہیں ہیں۔ درحقیقت اگر آپ صلاحیت اور کچھ کردکھانے کے عزم سے بھرپور پاکستانیوں کی تلاش میں نکلیں تو لاہور کی نسبت بوسٹن میں آپ اپنی تلاش میں آسانی سے کامیاب ہوسکتے ہیں۔

ہم یہاں یہ واضح کرنا چاہیں گے کہ ابتدائی کاروباروں کے لیے پیسہ فراہم کرنے والے تمام سرمایہ کار امریکہ سے تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔i2i وینچرز کی مصباح نقوی نے اپنی انڈر گریجوئٹ اور گریجوئٹ کی ڈگری انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے حاصل کیں ہیں۔ اور درحقیقت کلثوم لاکھانی اور مصباح نقوی دونوں ہی انویسٹ ٹو انویٹ اور i2i وینچرز جیسے اداروں کی صورت میں  پاکستان میں ان سٹارٹ اپ بانیان کو سرمائے کی فراہمی میں پیش پیش ہیں جن کی صلاحیتوں کو سرمایہ کاروں نے زیادہ اعتماد نہیں بخشا۔

صرف پاکستانی سرمایہ کار ہی ایسا نہیں کرتے:

سٹارٹ اپس کو ہونے والی فنڈنگ کا بڑا حصہ امریکہ سے تعلیم یافتہ بانیان کی جانب سے حاصل کیے جانے کا معاملہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں ہے۔

ٹوئٹر پر کلثوم لاکھانی کا وائے کمبی نیٹر کے حالیہ ڈیمو ڈے کے حوالےسے اپنے مشاہدے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ” ابھرتی ہوئی مارکیٹوں سے تعلق رکنے والے زیادہ تر بانیان ، غیر حیران کن طور پر، یا تو ( صلاحیتوں میں نکھار کے حوالے سے ) امریکی اداروں کا مضبوط پس منظر رکھتے ہیں یا پھر انہیں معروف ٹیکنالجوی کمپنیوں کے ساتھ کام کا تجربہ ہے”۔

وائے کمبی نیٹر دنیا میں  سٹارٹ اپ کا ایک معروف انکیوبیٹر ہے، جو کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں واقع ہے اور ہر سال یہ سٹارٹ کے دو بیچ لیتا ہے۔ گیارہ ہفتوں کے اس کے پروگرام کا اختتام ڈیمو ڈے کہلاتا ہے اور اس دن سٹارٹ اپس سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں اور اکثر بھاری سرمایہ کاری حاصل کرکے کامیاب کمپنیوں میں تبدیل ہوجاتےہیں ۔ سٹرائپ، کوائن بیس، ٹوئچ، ائیر بی این بی و دیگر اس  پلیٹ فارم سے ابھرنے والی کامیاب کمپنیاں ہیں۔

یہاں ہم یہ بھی بتانا چاہیں گے کہ خود امریکا کے اندر بھی بعض انتہائی معزز جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے تعصب پایا جاتا ہے۔ اسٹینفورڈ ، ایم آئی ٹی ، ہارورڈ ، اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے زیادہ سٹارٹ اپ بانیان پیدا کرتی ہیں جو کہ دیگر جامعات کے طلبہ کی نسبت دس لاکھ ڈالر سے زائد کی فنڈنگ زیادہ تعداد میں اکٹھی کرسکتے ہیں۔ سرمایہ کار اکثر اوقات غیر منصفانہ طور پر بھی کسی کالج کی تعلیم کو تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں مگر اس چیز کو انہوں نے یہ بات طے کرنے کا پیمانہ بنالیا ہے کہ انھیں اپنا پیسہ کہاں لگانا چاہیے۔

کیا لمز کو استثنا حاصل ہے ؟ :

بہت سے ہمارے دوست ہمیں یہ یقین دلاتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں کہ لمز پاکستان کا ایک بہترین تعلیمی ادارہ ہے جس کا امریکی تعلیمی اداروں کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ کیا لمز کے فارغ التحصیل طلبہ ملک کی دیگر جامعات سے بہتر ہیں؟۔ اور کیا وہ غیر ملکی ڈگری رکھنے والوں جیسے ہی ہیں یا ان کے قریب بھی ہیں؟۔

جواب ہاں میں ہے۔ لمز کے طالب علموں کو ملک کی دیگر جامعات کے طالب علموں پر برتری حاصل ہے۔  پاکستانی سٹارٹ اپس کو، بانیان کی خصوصیات کی بنا پر  ملنے والے فنڈز میں سے اس کے فارغ التحصیل طلبہ کاحصہ 21.9 فیصد ہے جوکہ آپ نوٹ کرسکتے ہیں کہ تمام دیگر پاکستانی جامعات کے طالب علموں کی جانب سے حاصل کی گئی مجموعی فنڈنگ سے زیادہ ہے۔

مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ جتنے بھی فنڈز لمز کے فارغ التحصیل سٹارٹ اپ بانیان نے حاصل کیے اس میں ستر فیصد ان بانیان کو ملے جن کے پاس غیر ملکی ڈگری تھی۔ لیکن لمز سے فارغ التحصیل وہ سٹارٹ اپ بانیان جنھوں نے ملک نہیں چھوڑا وہ بھی فائدے میں ہی رہے اور وہ اس طرح کے غیر ملکی ڈگری نہ رکھنے والے پاکستانی سٹارٹ بانیان کی جانب سے حاصل کیے جانے والے فنڈز میں انکا حصہ 41 فیصد ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ امریکا نہیں جاسکتے تو لمز جائیں اس کا بہت فائدہ ہوگا۔

پاکستانی سٹارٹ اپ بانیان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے ؟ :

 تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستانی جو اپنی خود کی کمپنی بنانا چاہتا ہے وہ امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے اپلائی کرنا شروع کردے؟۔ کیا پاکستانی ڈگریاں اتنی بے وقعت ہیں کہ یہ اضافی قدم اُٹھایا جائے؟۔ ضروری  نہیں ۔

غیر ملکی ڈگری رکھنے والے کچھ ایسی خصوصیات کے حام ل ہوتے ہیں جو کہ سرمایہ کار کو مطلوب ہوتی ہیں جیسا کہ کسی خیال ( کاروباری ) کو بنانا اور اسے بیان کرنے کی قابلیت اور اس چیز کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت کے یہ کام کرے گا۔ غیر مللی ڈگری بذات خود براہ راست کسی عزت نفس رکھنے والے  سرمایہ کار کی فیصلہ سازی پر اثر انداز نہیں ہوتی۔

 کسی بھی انٹرپرینوئر کے لیے سرمایہ کار کو اس کے منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کا بہترین طریقہ اس چیز کا مظاہرہ ہے کہ اس کا منصوبہ مارکیٹ کےساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ جوکہ دو الگ الگ مگر متعلقہ کاموں کے لیے انتہائی مددگار ہے یعنی یہ کسی منصوبے کی تیاری اور اسکے بعد معقول تعداد میں اسے استعمال کرنے والے لوگوں کی تلاش میں بھی معاون ہے تاکہ اس بات کا مظاہرہ کیا جاسکے کہ یہ منصوبہ مارکیٹ میں اپنی خاطر خواہ جگہ بنا لے گا۔

اگر کسی انٹرپرینوئر کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ کیا چیز بنانا چاہتا ہے تو پھر قابلیت کے اظہار کے لیے دیگر خصوصیات کی نمائش صرف وقت کا ضیاع ہوگا۔ جب آپکو یہ پتا ہوگا کہ آپ دنیا کو کیا پیش کر رہے ہیں تو دنیا آپ کی دہلیز تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ ہی لے گی۔ کم از کم سرمایہ کار تو ایسا کر ہی لیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here