پاکستان کا روس کیساتھ کورونا ویکسین مقامی سطح پر تیار کرنے پر غور

روس کے ساتھ تجارت، ریلویز اور ہوابازی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہش مند ہیں، وزیراعظم عمران خان

229

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ تجارت، ریلویز  اور ہوابازی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون برھانے کے خواہش مند ہیں۔

بدھ کو پاکستان کے دورے پر آئے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، اس دوران پاک روس دوطرفہ تعلقات اور علاقائی اور عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے جون 2020ء میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کیا جہاں انہوں نے دو طرفہ تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی خواہش پر زور دیا تھا۔

وزیر اعظم نے “پاکستان سٹریم” (شمالی جنوب) گیس پائپ لائن منصوبے کے لئے مطلوبہ قانونی عمل کو تیزی سے مکمل کرنے اور جلد از جلد کام شروع کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ رواں سال کے آخر میں ماسکو میں ہونے والے بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) اس تناظر میں مخصوص تجاویز اور منصوبوں کو پیش کریں گے۔

علاوہ ازیں وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کے فروغ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کے مابین تجارت میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے، روس کے اشتراک سے سپوتنک فائیو ویکسین کی پاکستان میں تیاری پر غور کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں جنہیں مزید مضبوط کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے۔ ہماری جغرافیائی سرحد سے آگے واقع روس کو ہم خطے اور عالمی منظر نامے میں استحکام کا باعث سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اقوام متحدہ کی مرکزیت اور عالمی قانون و کثیرالقومیت کی بنیاد کا بھرپور مبلغ ہے، یہ باعث اطمنان ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات اعتماد اور ہم آہنگی سے عبارت ہیں۔ ہمارا اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بہترین تعاون ہے اور اسے مزید مستحکم بنا رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ہم یکساں فوائد کے حامل تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہمارے تجارتی تعلقات میں پچھلے برس مزید اضافہ ہوا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور روس بین الحکومتی کمیشن کا آئندہ اجلاس کورونا کی پابندیوں کے نرم ہوتے ہی جلد بلانا چاہئے۔ ہم نے نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن منصوبے سمیت توانائی کے شعبہ میں تعاون پر پیش رفت اور انسداد دہشت گردی اور دفاع سمیت سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کا بھی جائزہ لیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ روسی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا، ہم نے کثیرالجہتی ایجنڈا کے زیادہ تر امور پر پاکستان اور روس کے موقف میں مماثلت دیکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے، ہم نے افغان قیادت میں افغانوں کو قابلِ قبول امن عمل کے لئے ہماری حمایت کا اعادہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے روس کی تیار کردہ سپوتنک فائیو ویکسین کو پاکستان میں رجسٹرڈ کیا ہے اس ویکسین کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ روس صحت کی سہولیات کے حوالے سے ترقی یافتہ ملک ہے، پاکستان، روس کے اشتراک سے اس ویکسین کی مقامی سطح تیاری پر غور کر رہا ہے۔

اس موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو پچاس ہزار خوراکیں مہیا کی ہیں، مزید ایک لاکھ پچاس ہزار خوراکیں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کورونا ویکسین کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کے خواہش مند ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ نارتھ سائوتھ گیس منصوبے کے جلد انعقاد کے خواہاں ہیں۔ پاکستان اور روس کے مابین دو طرفہ تجارت میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here