کووڈ-19 نے صنفی تفریق ختم ہونے کا دورانیہ مزید ایک نسل تک بڑھا دیا

258

جینیوا: عالمی اقتصادی فورم کے مطابق صنفی برابری کیلئے دنیا بھر میں خواتین کی ایک اور نسل کو بھی انتظار کرنا ہو گا کیونکہ کووڈ-19 کی عالمی وباء کے اثرات کے باعث عالمی سطح پر صنفی فرق کا خاتمہ 99.5 سال سے بڑھ کر 135.6 برس ہو گیا ہے ، یہ ایک نسل کے برابر ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی ’گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2021ء‘ کے مطابق کئی بڑی معیشتوں میں صنفی برابری پر پیشرفت کا عمل تعطل کا شکار ہے، اس کی وجوہات میں خواتین کی مسلسل اُن شعبوں میں ملازمت ہے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے جبکہ انہیں گھر پر نگہداشت کے اضافی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

یہ رپورٹ 2015ء میں بھی جاری ہوئی تھی اور اب اسے ان چار شعبوں میں صنفی بنیاد پر عدم مساوات کا جائزہ لینے کیلئے ایک بنچ مارک کی حیثیت مل چکی ہے جو کہ اقتصادی شمولیت و مواقع، تعلیمی تسلسل، صحت اور سیاسی بااختیاری سے متعلق ہیں۔

اس رپورٹ میں شامل 156 ممالک میں سے نصف سے زائد میں صنفی تفریق کی صورت حال اگرچہ بہتری کی جانب گامزن نظر آتی ہے لیکن پھر بھی دنیا بھر میں پارلیمانی نشستوں میں سے 26.1 فیصد خواتین کے پاس ہیں جبکہ وزارتی عہدوں پر مردوں کے مقابلے میں 22.6 فیصد خواتین موجود ہیں۔

حالیہ رپورٹ میں سیاسی صنفی تفریق کے خاتمے کا تخمینہ 145.5 برس لگایا گیا ہے جبکہ سال 2020ء کی رپورٹ میں یہ تخمینہ 95 برس لگایا گیا تھا، اس تناظر میں درکار عرصہ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سال 2020ء کی نسبت نئی رپورٹ میں صرف اقتصادی صنفی فرق میں کچھ بہتری نظر آئی ہے اور یہ فرق 267.6 برس میں ختم ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ سست پیشرفت بعض مخالف رحجانات کی وجہ سے ہے جبکہ ہنرمند اور تربیت یافتہ افرادی قوت میں خواتین کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، آمدنی میں عدم توازن برقرار ہے جبکہ مینجر کی سطح پر خواتین کی نمائندگی بھی معمولی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم و صحت کے شعبہ جات میں صنفی فرق تقریباََ ختم ہونے والا ہے، تعلیم کے شعبے میں دنیا کے 37 ممالک نے صنفی برابری حاصل کر لی ہے اور مزید 14.2 برس بعد یہ فرق ختم ہو جائے گا۔ شعبہ صحت میں فرق 95 فیصد ختم ہو چکا ہے تاہم گزشتہ برس کی نسبت اس رحجان میں قدرے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی مینجنگ ڈائریکٹر سعدیہ زاہدی کا کہنا ہے کہ عالمی وباء کی وجہ سے صنفی مساوات پر بنیادی اثر پڑا ہے جو کہ کام کرنے کی جگہ اور گھر دونوں مقامات پر مرتب ہوا، یہ صورت حال گزشتہ کئی برس کی محنت کو ضائع بھی کر گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے مستقبل کی موثر معیشت کا پانا ہے تو آنے والے کل میں خواتین کو ملازمت دینا ہو گی، آج اس بات کی اشد ترین ضرورت ہے کہ اس موضوع پر قیادت اپنی توجہ مرکوز کرے، موثر اہداف کیلئے پرعزم بنیں اور وسائل کو متحرک کیا جائے۔ یہ وقت ہے کہ بحالی کے عمل میں صنفی فرق کے خاتمے کو یکجان بنایا جائے۔

عالمی وباء کی وجہ سے مردوں کی نسبت خواتین پر زیادہ اثرات مرتب ہوئے،  آئی ایل او کے تخمینہ کے مطابق عالمی وباء سے 3.9 فیصد مردوں کی ملازمت ختم ہوئی جبکہ خواتین میں یہ شرح پانچ فیصد ہے۔

ایک امریکی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق وہ خواتین جو تاریخی طور پر نسلی اور لسانی گروہ بندی سے متاثر ہیں اس صورت حال میں بہت شدید متاثر ہوئی ہیں، ایسے شعبے جو تاریخی طور پر خواتین کی کم شرح رکھتے ہیں وہ آنے والے کل میں تیزی سے بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔

مثال کے طور پر کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں خواتین کل ورک فورس کا 14 فیصد ہیں، انجینئرنگ جہاں خواتین 20 فیصد ہیں، ڈیٹا و مصنوعی ذہانت جہاں خواتین 32 فیصد ہیں۔ ان شعبوں میں ابھرتے کردار کو اپنانے میں مردوں کی نسبت خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

’مستقبل کیلئے ملازمتیں‘ کے موضوع میں صنفی مساوات کیلئے پیشرفت جاننے کی خاطر اس رپورٹ میں نئے میٹرکس پیش کیئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ تعلیم اور نگہداشت کے کردار بھی مستقبل کی ترقی اور اس میں خواتین کی موثر ترین شمولیت کے حوالے سے اہم ہیں تاہم دیگر شعبوں کی نسبت ان میں اجرت قدرے کم ہوتی ہے۔

عالمی وباء سے خود کار نظام میں ترقی پر دہرا اثر مرتب ہوا ہے، کام اور نگہداشت میں دوہری شفٹ بڑھی ہے، اس کی وجہ سے خواتین کیلئے اقتصادی مواقع پر طویل المدتی اثرات مرتب ہوں گے جن میں معمولی دوبارہ ملازمت کے امکانات کو لاحق خطرات اور آمدن میں مسلسل کمی شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں ممالک کو مل کر صنفی فرق ختم کرنے کی راہیں دکھائی گئی ہیں۔ ان میں نگہداشت کے شعبہ میں سرمایہ کاری اور کام کرنے والے مرد و عورت کو رخصت کیلئے مساوی رسائی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ بھرتی اور ترقی کے عمل میں غیرجانبداری کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صنفی مساوات میں آئس لینڈ 12ویں مرتبہ دنیا کا بہترین ملک قرار پایا ہے، اس درجے میں شامل 10 بڑے ممالک میں پانچ وہ ممالک جنہوں نے زیادہ بہتر پیشرفت کی ان میں لتھوانیا، سربیا، تیمور لیستا، ٹوگو اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان ممالک نے صنفی فرق کو 4.4  فیصد پوائنٹس تک کم کیا ہے۔

اس رپورٹ میں پہلی بار تین نئے ممالک کو شامل کیا گیا ہے جن میں افغانستان کی پوزیشن 156ویں، گیانا کی 53ویں اور نائجر کی 138ویں پوزیشن ہے۔

مغربی یورپی ممالک والا خطہ اس رپورٹ میں سب سے بہتر خطہ قرار دیا گیا ہے اور اس نے صنفی فرق کو 77.6 فیصد تک ختم کر دیا ہے۔ اس تناظر میں یہ خطہ مزید 52.1 برس بعد صنفی تفریق مکمل ختم کر دے گا۔ رپورٹ میں شامل دس بہترین ممالک میں چھ اس خطے سے ہیں جبکہ اس خطے کے 20 میں سے 17 ممالک نے کسی حد تک اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے۔

کینیڈا اور امریکا پر مشتمل شمالی امریکی خطہ میں یہ فرق 76.4 فیصد ختم ہو چکا ہے اور یہ بہترین پیشرفت کرتا ہوا خطہ ہے، اس صورت حال کے تناظر میں یہ خطہ مزید 61.5 برس میں صنفی فرق مٹا دے گا۔ سیاسی صنفی فرق میں بھی بہتری نظر آئی ہے اور یہاں مجموعی فرق 18.4 فیصد سے بہتر ہو کر 33.4 فیصد ختم ہو چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here