ای پے پنجاب کے ذریعے ٹیکس ادائیگی، حکومت کو 23 ارب روپے آمدن

38 لاکھ سے زائد صارفین نے اس ایپ سے استفادہ کرتے ہوئے 13 ارب سیلز ٹیکس، پانچ  ارب ٹوکن ٹیکس، دو ارب 60 کروڑ پراپرٹی ٹیکس جبکہ ایک ارب روپے سے زائد رقم ٹریفک چالانز کی مد میں جمع کروائی

311

لاہور: ‘ای پے پنجاب’ کے ذریعے محصولات ادائیگی کی ٹرانزیکشنز 50 لاکھ سے تجاوز کر گئیں اور ڈیڑھ سال میں صوبائی حکومت کو اس کے ذریعے 23 ارب روپے سے زائد ٹیکس آمدن ہوئی ہے۔

چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) اظفر منظور کا کہنا ہے کہ پی آئی ٹی بی کے محکمہ خزانہ پنجاب کیلئے وضع کردہ سرکاری ادائیگیوں کے آن لائن نظام ‘ای پے پنجاب’ کے ذریعے 18 ماہ میں حکومت کو 23 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو حاصل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پنجاب حکومت کا چینی کی خریدوفروخت کے نظام کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

پنجاب کی 9 یونیورسٹیوں میں نینو اور مائیکرو چپ ٹیکنالوجی کے منصوبے پر کام شروع

انہوں نے بتایا کہ ای پے پنجاب کے ذریعے شہریوں کی جانب سے 50 لاکھ سے زائد آن لائن ٹرانزیکشنز کی جا چکی ہیں اور 38 لاکھ سے زائد صارفین نے اس ایپ سے استفادہ کرتے ہوئے 13 ارب روپے سیلز ٹیکس، پانچ  ارب روپے ٹوکن ٹیکس، دو ارب 60 کروڑ روپے پراپرٹی ٹیکس جبکہ ایک ارب روپے سے زائد رقم ٹریفک چالانز کی مد میں جمع کروائی ہے۔

اظفر منظور نے کہا کہ ای پے پنجاب سے شہریوں کو قطاروں میں کھڑے ہو کر وقت کے ضیاع سے نجات مل گئی ہے، کورونا وائرس کی وبا کے دوران شہری فاصلاتی پابندیاں برقرار رکھتے ہوئے اپنے ٹیکسوں کی ادائیگی گھر بیٹھے آن لائن کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اَب شہری 9 محکموں کے 20 قسم کے محصولات مثلاََ ٹوکن ٹیکس، ٹریفک چالان، ای چالان، پراپرٹی ٹیکس و دیگر کی ادائیگی اے ٹی ایم، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ، بینک برانچز، برانچ لیس بینکنگ، ٹیلی کام نیٹ ورک ایجنٹس کے ذریعے کر سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here