مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری بحال ہونے تک بھارت سے تجارت ناممکن: وزیراعظم

175

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مقبوضہ جموں کشمیر کے 5 اگست 2019 سے قبل کی خودمختاری حیثیت بحال ہونے تک بھارت کے ساتھ تجارتی چینلز نہ کھونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اکانومک ڈپلومیسی پر ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت نہ دینے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ “جب تک کہ بھارت غیرقانونی مقبوضہ جموں کشمیر کی 5 اگست 2019 سے پہلے کی حیثیت بحال نہیں کرتا ہم اس وقت تک بھارت کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے۔ ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر بھارت کے ساتھ کسی طرح کی تجارت نہیں ہو گی”۔

‍‍ذرائع نے وزیراعظم کے حوالے سے بتایا کہ “جب بھارت اپنی غلطیوں پر نظرثانی نہیں کرتا ہم آگے نہیں بڑھیں گے۔ کابینہ کو حتمی منظوری اور نوٹی فکیشن کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا فیصلہ جمع کرا دیا گیا ہے۔ یہ میڈیا کے ساتھ قبل ازوقت شئیر نہیں کرنا چاہیے”۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرخزانہ حماد اظہر اور دیگر حکام کی طرف سے بھارت کے ساتھ تجارت کھولنے کے میرٹ اور ڈی میرٹ پر اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں اکانومی پالیسی اور بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی دوبارہ سے بحالی پر بات چیت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی حکومت کا بھارت سے تجارت کھولنے پر یوٹرن

اجلاس میں بھارت سے کپاس اور چینی درآمد کرنے سے متعلق سمری کی منظوری کے ابہام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایپکس باڈی بشمول وزارتِ خارجہ اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی منظوری کے بغیر جس طرح ای سی سی کے فیصلوں کو میڈیا پر پیش کیا گیا وزیراعظم اس سے ناخوش ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے موجودہ قواعد اور مختلف تجاویز ای سی سی میں زیرِغور ہیں۔ تاہم، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر جس انداز میں ای سی سی کی تجاویز کو میڈیا پر شئیر کیا گیا وہ نامناسب تھا۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ مختلف شعبوں کو سہولیات دینے خاص کر چینی اور کاٹن یارن درآمد کرنے کے لیے جلد درآمدات کے متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہیے۔ اس موقع پر وزیرخزانہ حماد اظہر نے کہا کہ کسی بھی طرح کی پالیسی کا حتمی فیصلہ کابینہ کی طرف سے کیا جائے گا لیکن جب بھی پالیسی تشکیل دی گئی تو اس کا فیصلہ ای سی سی کی طرف سے ہی کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ چینی اور کپاس درآمد کرنے کے متبادل آپشنز بھی موجود ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو صرف اقتصادی حوالے سے بتایا گیا لیکن تجارت سے متعلق وزیراعظم کے ساتھ تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here