ڈالر کے مقابل پاکستانی روپیہ 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

552

اسلام آباد: امریکی ڈالر کے مقابلہ میں پاکستانی روپیہ 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق منگل کو انٹر بینک میں ٹریڈ کے ابتدائی نصف گھنٹہ کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے 0.61 فیصد کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ روز ڈالر 154.003 روپے کی سطح پر بند ہوا تھا جو منگل کی صبح 10 بج کر 5 منٹ پر 153 روپے 10 پیسے کی سطح پر ٹریڈ ہوا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلہ میں پانچ روپے یا 3.27 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس وقت پاکستانی روپیہ جون 2019ء کے بعد 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اسی طرح انٹربینک میں یورو کی قدر میں ایک روپے اور 40 پیسے کی کمی ہوئی اور وہ 179.84 روپے میں فروخت ہوا جب کہ برطانوی پاؤنڈ ایک روپے 94 پیسے (1.94 روپے) سستا ہو کر 210.85 روپے میں فروخت ہوا۔

اس حوالہ سے فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری سے روپے کے استحکام میں مدد ملی ہے۔ دیگر کثیر الملکی اداروں میں عالمی بینک کی جانب سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر نے بھی پاکستانی روپے کو مزید بہتر بنایا ہے۔

مارکیٹ کے رجحان کے بارے میں ملک بوستان نے کہا کہ ڈالر کی طلب میں خاصی کمی سے روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے۔ ڈالر کی فراہمی کی بھی کثرت ہے اور صرف ایکسچینج کمپنیاں اپنے کاؤنٹرز پر 70 سے 80 لاکھ ڈالر یومیہ وصول کر رہی ہیں اور پھر یہ لیکویڈیٹی انٹر بینک مارکیٹ میں جمع کروائی جاتی ہے۔ ملک بوستان نے روپے کی قدر میں حالیہ بہتری کی ایک وجہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو بھی قرار دیا۔

دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچا نے بھی ملک بوستان کے مؤقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے منصوبے اب ثمر آور ہو رہے ہیں اور باضابطہ ذرائع سے بڑی تعداد میں ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here