جوبائیڈن کی کلائمیٹ سمٹ: بھارت، بنگلہ دیش سمیت 40 ممالک مدعو مگر پاکستان نہیں

607

اسلام آباد/واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے دنیا کے تقریباََ 40 رہنماﺅں کو اپریل میں ہونے والی ماحولیاتی سمٹ میں شرکت کی دعوت دی ہے لیکن پاکستان کو اس کانفرنس کیلئے مدعو نہیں کیا گیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ نے وائٹ ہائوس کے حوالے سے بتایا کہ یہ سربراہی کانفرنس آئندہ ماہ 22 اور 23 اپریل کو آن لائن ہو گی، واشنگٹن کو امید ہے کہ اس اجلاس سے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق کاوشوں کو درست سمت دینے اور ان میں تیزی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی صدر میکرون، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سمیت چین، سعودی عرب، بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان اور ترکی کے رہنماﺅں کو سربراہی اجلاس میں مدعو کیا ہے۔

لیکن حیرت ناک امر یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے نائب صدر اور بین الحکومتی پینل کے رکن پاکستان کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

’10 بلین ٹری پروگرام کی سیٹلائٹ سے نگرانی کیلئے سپارکو سے مدد لی جائے‘

ماحولیات کے میدان میں خدمات کے اعتراف میں پاکستان کیلئے ’چیمپین فار نیچر‘ کا اعزاز

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ناصرف پہلے دس ممالک میں شامل ہے بلکہ عالمی درجہ حرارت میں کمی کیلئے بین الاقوامی برادری کے شانہ بشانہ کاوشیں بھی کر رہا ہے جس کا واضح ثبوت بلین ٹری سونامی سمیت جنگلات کے تحفظ اور نئے درخت اگانے کے متعدد منصوبے ہیں جن کا اعتراف کئی عالمی فورمز کی جانب سے کیا جا چکا ہے۔

اسی حوالے سے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکی صدر نے ماحولیاتی تبدیلی پر سربراہی اجلاس کیلئے 40 سربراہان کو مدعو کیا لیکن ہمارے سونامی ٹری فراڈ والے عمران نیازی کو مدعو نہیں کیا۔‘

احسن اقبال نے مزید کہا کہ بھارت، بنگلادیش اور بھوٹان مدعو ہیں لیکن پاکستان نہیں جبکہ پاکستان دنیا کے پہلے 10 ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک میں شامل ہے۔

پاکستان کو ماحولیاتی سمٹ میں مدعو کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کا بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ صرف شمولیتی، تعاون پر مبنی اور دور اندیش پالیسیوں کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان اس جنگ میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کا عزم اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت کو پوری دنیا میں اچھی طرح سے تسلیم کیا اور سراہا گیا ہے، بلین ٹری سونامی جیسے حکومتی اقدامات نے عالمی اقتصادی فورم سمیت بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے نائب صدر اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الحکومتی پینل کے رکن کی حیثیت سے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے مباحثے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات کی حمایت کے لئے قائم ملٹی بلین ڈالر گرین کلائمیٹ فنڈ کی مشترکہ صدارت بھی کی۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ابتدائی دس ممالک میں شامل ہونے کے باوجود سب سے کم زہریلی گیس اخراج کرنے والوں میں شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here