پائما کا سینتھٹک یارن پر ایڈیشنل کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کرنے کا مطالبہ

خام مال کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور کاٹن کی قلت کے باعث صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ چکی، برآمدکنندگان کو برآمدی سودوں کے مقابلے میں پیداواری لاگت بڑھنے سے نقصانات کا سامنا ہے: یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن

318

اسلام آباد: پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن (پائما) نے ٹیکسٹائل خام مال سینتھٹک یارن پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن (پائما) کے سینئر وائس چیئرمین حنیف لاکھانی نے وزیراعظم کے مشیر تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داود کو ان کا وعدہ دلاتے ہوئے ایک بار پھر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خام مال سینتھٹک یارن پر عائد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مناسب داموں پر خام مال کی فراہمی میں حکومت اپنا کردار ادا کرے تاکہ وزیراعظم کے صنعتی و معاشی ترقی کے خواب کو پورا کیا جا سکے۔

حنیف لاکھانی نے اپنے ایک بیان میں مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے صنعتی خام مال پر عائد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ختم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر پولیسٹر کے سینتھٹک یارن پر اے سی ڈی اور آر ڈی ختم نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پائما کے مطالبہ پر مشیرِ تجارت نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ صنعتوں کے دیگر خام مال کی طرح سینتھٹک یارن پر بھی ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹا دی جائے گی اور پولیسٹر ویلیوچین کے کاسکیڈنگ سسٹم کو بھی درست کیا جائے گا جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان اور درآمد کنندگان پریشان ہیں۔

پائما کے وائس چیئرمین فرحان اشرفی نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خام مال کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور کاٹن کی قلت کے باعث صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے اور برآمدکنندگان کو پہلے سے طے شدہ برآمدی سودوں کے مقابلے میں پیداواری لاگت بڑھنے سے نقصانات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سینتھٹک یارن پر پہلے ہی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی بھی عائد ہے لہٰذا برآمدی صنعتوں اور درآمدکنندگان کو سستے خام مال کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سینتھٹک یارن پر عائد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی فوری طور پر ختم کی جائے اور کاسکیڈنگ سسٹم کو بھی جسٹیفائی کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here