چین نے برطانوی پارلیمنٹ کے پانچ ارکان سمیت 9 افراد، چار اداروں پر پابندیاں لگا دیں

203

بیجنگ: چین نے سنکیانگ میں ایغور مسلم اقلیتی گروپ کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام پر برطانوی پابندیوں کے جواب میں برطانوی پارلیمنٹ کے پانچ اراکین سمیت 9 افراد اور چار برطانوی اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین نے برطانوی پابندیوں کے جواب اور چین کے خلاف جھوٹی اور غلط معلومات پھیلانے پر برطانوی پارلیمنٹ کے پانچ اراکین سمیت 9 افراد اور چار اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے الزامات اور یکطرفہ پابندیاں جھوٹی اور غلط معلومات کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں جو بین الاقوامی قانون اور باہمی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چین کا یورپی یونین کے 4 اداروں اور 10 عہدیداروں پر پابندیوں کا اعلان

چین کی وزارت خارجہ نے برطانوی پابندیوں کی شدید مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے چین میں برطانوی سفارت کار کو بھی طلب کر لیا۔

چین نے جن افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں ان میں برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹام ٹوگیندہٹ، رکن پارلیمنٹ و سابق وزیر ایان دونکن سمتھ، رکن پارلیمنٹ نیل او برائن، ہاﺅس آف لارڈز کے رکن ڈیوڈ ایلٹن، رکن پارلیمنٹ ٹم لوگہوٹن، برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی رکن نصرت غنی، ہاﺅس آف لارڈز کی رکن ہیلینا کینیڈے، قانون دان جیفری نیس اور جوانے نیکولا سمتھ فنلے شامل ہیں۔

اسی طرح چار اداروں چائنا ریسرچ گروپ، کنزرویٹو پارٹی ہیومن رائٹس کمیشن، ایغور ٹریبیونل اور ایسیکس کورٹ چیمبرز پر چین کی جانب سے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

چین کی پابندیوں کے بعد ان تمام افراد کے چین، ہانگ کانگ اور مکاﺅ میں داخلے پرپابندی ہو گی اور ان کے چین میں اثاثے منجمد کر دیئے جائیں گے، ان افراد کے چینی اداروں اور شہریوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر بھی پابندی ہو گی۔

اس سے قبل 23 مارچ کو چین نے یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے دس افراد اور چار اداروں پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔

چین کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں یورپی پارلیمنٹ کے ممبر رین ہارڈ بٹیکوفر، جرمنی کے سکالر ایڈرین زینز اور سویڈش سکالر بجن جورڈن سمیت 10 افراد اور یورپی یونین کونسل کی سیاسی اور سلامتی کمیٹی، یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی، مطالعہ چین کے حوالے سے جرمن مرکٹر سنٹر اور ڈینش ڈیموکریٹک لیگ فانڈیشن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلم اکثریتی گروپ کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور یورپی یونین نے چین پر متعدد پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ برطانیہ اور یورپی یونین نے چین سے مطالبہ کیا تھا وہ قانون سازوں اور انسانی حقوق کے ماہرین کو سنکیانگ کے مسلم اکثریتی خطے میں جانے کی اجازت دے تاہم چین کی جانب سے انکار کر دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here