خیبرپختونخوا محکمہ ٹرانسپورٹ 11 ارب کے سالانہ ترقیاتی فنڈز میں سے محض 3 فیصد ہی خرچ کر سکا

177

پشاور: خیبرپختونخوا ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ رواں برس 11 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی منصوبے(اے ڈی پی) کے بجٹ میں سے صرف تین فیصد ہی ترقیاتی منصوبوں پر استعمال کر سکا۔

صوبائی محکمہ خزانہ کے دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کے پی حکومت نے نو منصوبوں کے لیے 11.817 ارب روپے مختص کیے تھے جن میں سے صوبائی محکمہ خزانہ نے 8 ارب 28 کروڑ روپے جاری کر دیے تھے لیکن محکمہ ٹرانسپورٹ اب تک صرف 3کروڑ 63 لاکھ روپے ہی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر سکا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے ٹرانسپورٹ پلاننگ اینڈ ٹریفک انجنئیرنگ یونٹ (ٹی پی یو) منصوبے کے لیے 4 کروڑ روپے مختص کیے جس میں سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

فنڈز کی عدم فراہمی پر خیبرپختونخوا میں کئی ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار

سات ماہ میں پاکستان کے فنانشل اور ٹرانسپورٹ سیکٹرز کے تجارتی خسارہ میں نمایاں کمی

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے اشتراک سے جمرود روڈ پر بی آر ٹی کوریڈور کے لیے 332.123 ملین روپے مختص کیے گئے لیکن منصوبے پر ابھی تک صرف 50 لاکھ روپے ہی خرچ کیے جا سکے ہیں۔

اسی طرح، ٹرانسپورٹ انسپیکشن سٹیشن پروجیکٹ کے لیے 180.252 ملین روپے مختص کیے گئے جس میں سے 7کروڑ 57 لاکھ روپے ہی خرچ کیے گئے۔

اس کے علاوہ، اے ڈی بی کے اشتراک کے ساتھ پشاور ماس ٹرانزٹ سسٹم پروجیکٹ کے لیے 10.346 ارب روپے میں سے صرف 118.087 ملین روپے ہی استعمال ہوئے۔

یہ بھی مدِ نظر رہے کہ مالی سال 2021ء کی صرف چوتھی سہ ماہی رہ گئی ہے اگر منصوبے آئندہ مالی سال پر چھوڑے گئے تو ان کی لاگت میں اضافہ ہو گا۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت اس وقت آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی تیاری کر رہی ہے اور تمام صوبائی محکموں کو موجودہ مالی سال کی اپنی کارکردگی رپورٹس جمع کرانی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ “محکمہ ٹرانسپورٹ کے کئی اہم منصوبے کھٹائی میں پڑنے کا خطرہ ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here