’ریلوے میں دو سے اڑھائی ارب روپے بجلی کے نام پر چوری ہو رہے ہیں‘

گریڈ 19 کے افسران کو کہا ہے حادثہ ہو گا تو وہ ذمہ دار ہوں گے اس لئے اپنا انسپیکشن کا نظام بہتر بنائیں: وزیر ریلوے اعظم سواتی

137

اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ ریلوے میں دو سے اڑھائی ارب روپے بجلی کے نام پر چوری ہو رہے ہیں، کالی بھیڑوں کا محاسبہ کریں گے۔

سوموار کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ محکمے سے کالی بھیڑوں کا محاسبہ کریں گے، ریلوے کے خسارے کو جلد ختم کرکے منافع بخش ادارہ بنائیں گے، ریلوے کی ایک انچ زمین بھی نہیں بیچی جائے گی لیکن اس زمین کو اس طرح استعمال کریں گے کہ اس کا فائدہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے ٹکٹوں کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے، ریلوے نے ایف ڈبلیو او کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کئے ہیں، اسٹیشنز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، تین مہینے کے اندر 30 ارب روپے کمانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ 40 ارب کمانے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

اعظم سواتی نے کہا کہ ان کی ڈائری میں سال نہیں ہے، گھنٹے، دن، ہفتے اور مہینے ہیں، وہ تمام کام جلد اور فوری کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے مزدور محنتی ہیں اور ان کی آنکھ کا تارا ہیں لیکن چند کالی بھیڑیں ہیں جو ریلوے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں، محکمے میں دو سے اڑھائی ارب روپے بجلی کے نام پر چوری ہو رہے ہیں، ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں گے جو ریلوے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریلوے حادثات کو روکنے کے لئے بھی ترجیح بنیادوں پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ گریڈ 19 کے افسران کو کہا گیا ہے کہ حادثہ ہو گا تو وہ ذمہ دار ہوں گے اس لئے اپنے انسپیکشن کے نظام کو بہتر بنائیں۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ دو ہزار ویگنیں بالکل تیار پڑی ہیں جنہیں پی ایس او استعمال نہیں کر رہا، اگر پی ایس او استعمال کرے تو تین ارب کا فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریلوے کا ایک روپیہ اپنے اوپر خرچ نہیں کرتے اور اس محکمے کو کرپشن سے پاک اور منافع بخش قومی ادارہ بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here