جی ایس پی سکیم کے تحت پاکستان کی جاپان سے رعایتی قرضوں کی درخواست

217

اسلام آباد: پاکستان نے جاپان کی جی ایس پی سکیم کے تحت جاپانی کرنسی ین کی بنیاد پر رعایتی قرضوں، ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات پر ٹیرف ریلیف کی درخواست کر دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں اس بابت دونوں ممالک کے درمیان ساتواں جاپان پاکستان اعلیٰ سطحی اکنامک پالیسی ڈائیلاگ (ای پی ڈی) منعقد ہوا۔ پاکستان کی نمائندگی سیکریٹری وزارت اقتصادی امور نور احمد جبکہ جاپانی وفد کی قیادت جاپان کے سینئر نائب وزیر برائے امور خارجہ ہیروشی سوزوکی نے کی۔

ڈائیلاگ میں پاکستانی حکام نے جاپان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ یکساں ٹیکسیشن سسٹم، خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈ) میں ریگولیٹری ڈیوٹیز، ٹرن اوور ٹیکس، ٹیکس ریفنڈز اور ترسیلاتِ زر وغیرہ سے متعلق مشکلات کے حوالے سے جاپانی سرمایہ کاروں کے خدشات کو دور کریں گے۔

پاکستان نے جاپانی سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی پیش کش کی، یہاں تک کہ جاپانی سرمایہ کاروں کے لئے ایک مخصوص معاشی زون کے قیام کی تجویز بھی دی۔

دونوں ممالک کے وفود نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف شعبوں میں معاشی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ ‎ظاہر کیا۔

جاپان نے جغرافیائی اقتصادی محل و قوع اور خطے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے ایک مرکز کی حیثیت سے پاکستان کو جاپانی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش ملک کے طور پر تسلیم کیا۔ اقتصادی تعاون بڑھانے کی غرض سے تجارتی خسارے کو متوازن کرنے کے لئے پاکستان سے برآمدات میں اضافے، رعایتی قرضوں کی بحالی اور سالانہ گرانٹس میں اضافے کا بھی عندیہ دیا۔

اسی طرح براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، ٹیکنالوجی کے تبادلے، ٹیکسٹائل، چمڑے، الیکٹرانکس اور زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت بڑھانے، فوڈ پروسیسنگ، آٹو سیکٹر اور برقی گاڑیوں کی صنعتوں کے مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے امور پر بھی بات چیت کی۔

انسانی وسائل کے تعاون کے سلسلے میں پاکستان نے جاپان کو ہنرمند اور نیم ہنر مند افرادی قوت کی برآمد کی پیشکش کی، جاپان کے سینئر نائب وزیر برائے امور خارجہ نے دونوں ممالک کے مابین طویل المدتی دوستی کو مزید جلاء بخشنے کے عزم کا اعادہ کیا اور 2011ء میں جاپان میں بدترین سونامی کے دوران پاکستانی کمیونٹی کی حمایت کو سراہا۔

ڈائیلاگ میں جاپان میں پاکستان کے سفیر امتیاز احمد اور پاکستان میں جاپان کے سفیر کنینوری میتسودا نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت خزانہ، امور خارجہ، تجارت، صنعت و پیداوار، بیرون ملک مقیم پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات، نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ، اور سرمایہ کاری بورڈ کے سینئر افسران بھی شریک تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here