خیبرپختونخوا: کرپٹوکرنسی اور کرپٹو مائننگ کے حوالے سے مشاورتی کمیٹی قائم

322

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیا اللہ بنگش نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کرپٹو مائنینگ کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے اور ہم تمام اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین سے مشاورت کے بعد قانونی طریقہ کار کے مطابق کرپٹو مائنینگ اور بلاک چین شروع کرنے کے لئے پورے ملک میں سبقت لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپٹو مائننگ کے تمام تر اختیارات اور کنٹرول حکومت کے پاس ہوں گے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تمام انویسٹرز چاہے وہ پاکستانی ہوں یا بیرونی ممالک سے ہمارے ساتھ رابطہ کر سکیں گے۔

وہ گزشتہ روز صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور مشیر خوراک میاں خلیق الرحمن کے ہمراہ کرپٹو مائننگ کے لیے قائم کی گئی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

ایڈوائزری کمیٹی کے پہلے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف امور کو نمٹانے کے لیے سب کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ ذیلی کمیٹیوں میں بلاک چین کمیٹی قائم کی گئی جس کا چئیرمین ایک رکن صوبائی اسمبلی ہو گا۔ دیگر کمیٹیوں میں ٹیکنیکل کمیٹی اور رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔

رابطہ کمیٹی کے ممبران میں اراکین صوبائی اسمبلی اور ٹیکنیکل ممبرز شامل ہوں گے جو سٹیک ہولڈرز، سٹیٹ بینک، ایف بی آر اور دیگر اداروں کے ساتھ پالیسی پر بات کریں گے۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر صاحبزادہ علی محمود نے بلاک چین پر بھی ایک کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی۔ مختلف تکنیکی معاملات کے جائزہ کے علاوہ اس کمیٹی کے دائرہ کار میں اس ٹیکنالوجی کے مختلف حکومتی محکموں میں استعمال اور اس سے وابستہ تمام پہلوں کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے سفارشات پیش کرنا شامل ہو گا۔

ضیا اللہ بنگش نے کریپٹو مائننگ کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا کا موسم اس کے لیے مفید ہے، خیبرپختونخوا میں ہائیڈرو پاور کی بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں اور یہ تمام سہولیات کرپٹو مائننگ کے لیے ضروری ہیں جبکہ صوبائی حکومت قانون سازی کے لئے بھی اقدامات کر رہی ہے اور تمام ایکسپرٹس خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ویب سائٹ پر تجاویز بھی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ کرپٹو مائننگ میں دلچسپی لے رہے ہیں وہ درخواستیں دیں، اس سلسلے میں عوام کو آگاہی دینے کیلئے بہت جلد اس موضوع پر سیمینار بھی منعقد کریں گے۔

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ہم کرپٹو مائننگ کے قانونی حیثیت اور دیگر سٹیک ہولڈرز جیسے سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کی ضرورتوں کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ہماری کوشش ہو گی کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کرپٹو مائننگ لانچ کریں تاکہ دیگر ممالک کی طرح ہم بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ضیا اللہ خان بنگش نے قائم کی گئی ذیلی کمیٹیوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ اپنی تجاویز ایڈوائزری کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کریں۔ انہوں نے ٹیکنیکل کمیٹی کو ہدایت کی کہ ہائیڈرو پاور بشمول کرپٹو مائیننگ فارمز کی تنصیب پر ایک تفصیلی رپورٹ بشمول اخراجات پیش کریں۔ ایڈوائزری کمیٹی میں شامل مختلف ٹیکنیکل ممبرز نے فورم کو کرپٹو مائیننگ کے حوالے سے تجاویز اور قانونی رائے بھی دی۔

ایڈوائزری کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرپٹو مائیننگ کو بطور سافٹ ویئر ڈیل کیا جائے نہ کہ بطور کرنسی اور جو طریقہ کار رائج کیا جا رہا ہے اس میں تمام تر اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here