پاکستان اور سنگاپور کا منشیات کی سمگلنگ روکنے کیلئے سخت اقدامات پر اتفاق

165

اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے منشیات کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات اٹھانے اور سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

گزشتہ روز وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور سنگاپور کی وزیر برائے افرادی قوت و امور داخلہ جوزفین تیولی من نے جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقدہ جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف سے متعلق کیوٹو کانگریس کے موقع پر ویڈیو کانفرنس میں شرکت کی۔

وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنمائوں نے سائبر کرائم کا مقابلہ کرنے اور منشیات کی نقل و حمل روکنے میں اپنی کوششوں کو تقویت دینے کا اعادہ کیا۔

وزیر داخلہ نے سنگاپور کی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان نے باڑ لگا کر افغانستان اور ایران کے ساتھ اپنی سرحدیں محفوظ کی ہیں اور منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لئے خصوصی دستے تعینات کر دیئے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی سلامتی اور تقدس کو مستحکم کرنے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپنا رہا ہے جس کے لئے اس نے حال ہی میں سرحدوں پر جدید بارڈر مینجمنٹ سسٹم قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ زیادہ تر افغانستان کی سرحد سے ہوتی ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے بہتر بارڈر مینجمنٹ کی وجہ سے اس میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر 90 فیصد باڑ لگ چکی ہے، باقی حصے پر رواں سال کے آخر تک باڑ لگا دی جائے گی۔ پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کا کام 40 فیصد مکمل ہو چکا ہے جبکہ رواں سال کے آخر تک سرحد پر مکمل طور پر باڑ لگا دی جائے گی۔ پاکستان کا یہ اقدام سرحدوں پر غیر قانونی انسانی سمگلنگ اور منشیات کو روکنے میں بہت مدد دے گا۔

مسز جوزفین تیو لی من نے کہا کہ سنگاپور منشیات کے استعمال اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان کی کوششوں سراہتا ہے۔ سنگاپور میں بھی منشیات کے استعمال پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔

وزیر داخلہ نے سنگاپور کی ہم منصب کو یقین دلایا کہ پاکستان منشیات کی روک تھام کے لئے کمیشن کا رُکن بننے میں سنگاپور کی مکمل حمایت کرے گا۔ سنگاپور کی وزیر نے منشیات کی لعنت سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ساتھ زیادہ فعال طور پر تعاون کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شیخ رشید احمد نے یقین دلایا کہ پاکستان جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف میں عالمی برادری کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنے کے لئے وسائل بروئے کار لائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here