وزیر اعظم نے ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ ڈرون ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیدی

سول ڈرون اتھارٹی کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے، لائسنسوں کا اجراء،  امپورٹ اور ملک میں پیداوار کی اجازت دینے کے اختیارات ہوں گے، اتھارٹی ڈرونز کی مینوفیکچرنگ، آپریشنز، ٹریننگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ذمہ داریاں سر انجام دے گی

262

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک میں سول ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ، ترقی اور اس اہم شعبہ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ڈرون اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔

سول ڈرون اتھارٹی کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے، لائسنسوں کا اجراء،  امپورٹ اور ملک میں پیداوار کی اجازت دینے کے اختیارات ہوں گے، اتھارٹی ڈرونز کی مینوفیکچرنگ، آپریشنز، ٹریننگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ذمہ داریاں سر انجام دے گی۔

ہفتہ کو وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق اتھارٹی کو جرمانے اور سزا، لائسنسوں کی تنسیخ اور قانونی چارہ جوئی کے اختیار بھی حاصل ہوں گے۔

سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن ڈرون اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ دیگر ممبران میں ائیرفورس، سول ایوی ایشن، دفاعی پیداوار، داخلہ اور وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سینئر افسران شامل ہوں گے۔ تمام وفاقی اکائیوں بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

اس کے علاوہ شعبے کے تین ماہرین بھی اتھارٹی کا حصہ ہوں گے۔ اتھارٹی میں تمام متعلقین کی شمولیت اتھارٹی کے فرائض کی انجام دہی اور اداروں کے درمیان بہترین کوارڈی نیشن میں معاون ثابت ہو گی۔

اس حوالے سے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کو کمرشل، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، ایگرکلچر و دیگر پرامن مقاصد کے لئے برے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف اس حوالے سے موجود خلا کو پر کیا جا سکے گا جو ڈرون کے حوالے سے کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے موجود ہے بلکہ یہ اتھارٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ اور اسکی ملک میں پیداوار میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، ڈرون ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے وسائل کا موثر استعمال اور سروس ڈیلیوری میں بہتری میں مدد ملے گی۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور کابینہ کی منظوری کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here