پنجاب کی 9 یونیورسٹیوں میں نینو اور مائیکرو چپ ٹیکنالوجی کے منصوبے پر کام شروع

یو ای ٹی لاہور منصوبے کا پی سی وَن تیار کرے گی، یو ای ٹی ٹیکسلا، آئی ٹی یو لاہور، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، ایم این ایس یو ای ٹی ملتان، کنگ فہد یونیورسٹی رحیم یار خان، یونیورسٹی آف گجرات اور چکوال بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں

552

لاہور: یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں چِپ ٹیکنالوجی کے فروغ کے موضوع پر خصوصی سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن کمیشن راجہ یاسر ہمایوں نے شرکت کی۔

اس موقع پراپنے خطاب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دور جدید میں مائیکرو اور نینو چِپس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے پنجاب حکومت صوبے کی 9 یونیورسٹیوں میں چِپ ٹیکنالوجی کو فروغ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے، یو ای ٹی اس منصوبے کے ہارڈ ویئر، بجٹ اور دیگر معاملات پر پی سی وَن تیار کرے گی جس کے بعد دیگر یونیورسٹیوں کے فیکلٹی ممبران کو خصوصی تربیت دی جائے گی۔

راجہ یاسر ہمایوں کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ سٹاف اپنی اپنی یونیورسٹیوں میں طلبا و طالبات کو چِپ ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگاہ کرے گا ، نصاب تیار کیا جائے گا جبکہ خصوصی کورسز کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

پنجاب میں چِپ ٹیکنالوجی کے فروغ کے اس منصوبے میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے علاوہ یو ای ٹی ٹیکسلا، آئی ٹی یو لاہور، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور شامل ہیں۔ ایم این ایس یو ای ٹی ملتان، کنگ فہد یونیورسٹی رحیم یار خان، یونیورسٹی آف گجرات اور چکوال بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

قبل ازیں وائس چانسلر یو ای ٹی لاہور ڈاکٹر منصور سرور نے چپ ٹیکنالوجی منصوبے کی تکمیل کیلئے یو ای ٹی کی جانب سے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے منصوبے کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو بھی کی، سیمینار میں دیگر جامعات کے وائس چانسلرز، فیکلٹی ممبران، متعلقہ شعبوں کے چیئرپرسنز کے علاوہ طلبا و طالبات کی کثیر تعداد بھی شریک ہوئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here