دنیا قابل تجدید توانائی کی جانب متوجہ، پاکستان میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ

گزشتہ چار سال کے دوران بجلی کی مجموعی قومی پیداوار میں کوئلہ سے پیدا کی جانے والی بجلی کا حصہ 17.4 فیصد بڑھ چکا ہے، رپورٹ

189

اسلام آباد: دنیا بھر میں فضائی آلودگی کا موجب بننے اور مہنگے ہونے کی وجہ سے کول پاور پلانٹس کو ریٹائر کیا جا رہا ہے اور قابل تجدید ذرائع سے توانائی کی پیداوار پر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں جو پیداواری لاگت کے حساب سے کول پاور پلانٹس سے پیدا شدہ بجلی سے سستی بھی ہے۔

لیکن پاکستان میں گزشتہ چار سال کے دوران بجلی کی مجموعی قومی پیداوار میں کوئلہ سے پیدا کی جانے والی بجلی کا حصہ 17.4 فیصد بڑھ چکا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2021ء میں کوئلہ کی مدد سے حاصل کی جانے والی بجلی مجموعی ملکی پیداوار کے 31.7 فیصد تک بڑھ گئی۔ جنوری 2018ء میں یہ تناسب 14.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح چار سال میں کوئلے سے پیدا کی جانے والی بجلی کا حصہ 17.4 فیصد بڑھا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے تجزیہ کار راﺅ عامر علی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوری 2019ء کے دوران کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا تناسب 18.7 فیصد رہا تھا جبکہ جنوری 2020ء میں بجلی کی مجموعی پیداوار میں کوئلہ سے حاصل کی جانےوالی بجلی کا حصہ 32.1 فیصد رہا تھا۔

دوسری جانب انرجی مکس پالیسی کے تحت جنوری 2018ء کے دوران کوئلہ کی مدد سے 1145 گیگاواٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کی گئی ہے جبکہ جنوری 2019ء میں پیداوار 1452 گیگاواٹ فی گھنٹہ رہی تھی۔

اس طرح جنوری 2020ء میں کوئلہ کی مدد سے 2501 گیگاواٹ فی گھنٹہ بجلی کی پیداوار حاصل ہوئی تھی جبکہ جنوری 2021ء میں پیداوار 2560 گیگاواٹ فی گھنٹہ تک بڑھ گئی۔

پاکستان 2030ء تک انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 30 فیصد اور پن بجلی کی پیداوار کا حصہ 30 سے 40 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں کوششیں بھی کی جا رہی ہیں، حکومت بعض غیرملکی کمپنیوں کے تعاون سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لئے سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی مقامی طور پر اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ پرغور کر رہی ہے

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here