افغان نوجوان جو مشروم فارمنگ کے ذریعے افیون کی کاشت کیلئے مشہور افغانستان کا تشخص بدلنے کیلئے کوشاں ہے 

332

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان اپنے گھر میں مشروم فارمنگ کر کے مارکیٹ میں روزانہ تقریباََ 30 کلوگرام مشروم فروخت کر کے مشروم فارمنگ کا سُرخیل بن گیا ہے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کا نام رسول رضا ہے جس نے روس میں اپنے قیام کے دوران مشروم اگانے کے بارے میں سیکھا اور دوسال پہلے افغانستان میں اپنا فارم بنایا تھا۔

2012ء میں افغانستان میں عدم تحفظ اور بے روزگاری کے باعث پہلی بار روس جانے والے رسول رضا اپنے تجربات کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’روس میں ایک دوست نے مشروم فارمنگ کا بتایا اور میں نے وہاں یہ کام کام شروع کر دیا، میں نے اس کی کاشت اور پیکنگ سے متعلق تمام تکنیک سیکھ لیں۔‘

2016 میں 10 لاکھ سے زائد افراد نے یورپ میں سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دیں ان میں سے ایک تہائی کا تعلق دہائیوں سے جنگ زدہ اور غربت کے شکار افغانستان سے بھی تھا اور انہی افغانوں میں سے ایک رسول رضا بھی تھا۔

یورپ میں سیاسی پناہ کی رسول رضا کی درخواست مسترد کر دی گئی اور وہاں سے اسے واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا جہاں اس نے ابتداء میں ایک دکاندار کے طور پر کام کا آغاز کیا لیکن مشروم فارمنگ کی یاد اس کے ذہن میں باقی تھی۔

رضا نے غیرملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ “میں نے سوچا کہ جب میرے پاس اس شعبے کا تجربہ ہے تو میں یہ کام کیوں نہیں کرتا؟”

انہوں نے اپنے گھر کے ایک چھوٹے سے حصے میں مشروم کی کاشت شروع کر دی، ابتداء میں وہ مارکیٹ میں چار سے پانچ کلو مشروم فروخت کرتا رہا، لیکن اب یہ نوجوان روزانہ 4500 افغانی یعنی 58 امریکی ڈالرز کماتا ہے اور اپنے مستقبل سے متعلق خاصا پُرامید ہے۔

رسول رضا نے ذاتی مشروم فارمز لگانے والے افراد کو مشروم کے خلیات سپلائی کرنا شروع کر دیے ہیں، یہ خشکی میں گھرے افغانستان میں گھریلو مشروم فارمنگ کی یہ ایک نایاب مثال ہے جہاں عام طور پر کسی بھی طرح کی کاشت کاری کے لیے بیج درآمد کیے جاتے ہیں۔

رضا کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران مشروم اگانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ کاروباروں کا حجم چھوٹا ہونے کے طور پر لوگ نئے ذرائع آمدن تلاش کر رہے ہیں۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک دکاندار ذاکر حسین محمدی، جو کابل کی مقامی منڈی میں روزانہ کی بنیاد پر 10 کلوگرام کے قریب مشروم فروخت کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ صارفین کی دلچسپی میں بھی دن بدن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رسول رضا کو امید ہے کہ دوسرے کسان بھی مشروم اگائیں گے اور عالمی سطح پر افغانستان کا افیون اگانے کا تشخص تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here