کم سے کم مزاحمت کا راستہ اپنا کر پاکستان کا ای کامرس سیکٹر عروج کی جانب گامزن 

تین پاکستانی سافٹ وئیر بطور سروس (ساس) کمپنیاں آسان طریقے سے سہولت کی فراہمی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مرچنٹس کو آن لائن مارکیٹ کی طرف راغب کر رہے ہیں

594

جب 2012ء  میں راکٹ انٹرنیٹ نے پاکستان میں دراز ڈاٹ پی کے لانچ کیا تو وہ اپنے ساتھ ایک ایسا آئیڈیا بھی لایا جسے پاکستانی ای کامرس سیکٹر میں کبھی حقیقی معنوں میں استعمال نہیں کیا گیا۔ اس آئیڈیے کی موجودگی صرف ریٹیل سٹورز میں ہے اور اُس وقت اسے صرف بیان کرنا آسان تھا۔ جب اس یورپین انٹرنیٹ کمپنی نے اپنے گاہکوں، چاہے وہ مینوفیکچررز ہوں یا مرچنٹس، کو دو ایسی آفرز کیں جو وہ رد نہ کر سکے۔

اول: ملٹی نیشنل کمپنی کے بنائے گئے سٹور میں آن لائن موجودگی۔

دوئم: ملٹی نیشنل کمپنی کی ٹیکنالوجی کی مدد سے آن لائن سپیس میں جلد از جلد اپنی موجودگی ممکن بنانا۔

پہلی پیشکش کے تحت مینوفیکچررز اور مرچنٹس کی مصنوعات دراز ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ کے مرکزی اور کیٹگری صفحات پر دکھائی جانی تھیں یا پھر صارف کی جانب سے تلاش کیے جانے پر انہیں اس کے سامنے لایا جانا تھا۔

دوسری پیشکش یہ تھی کہ مرچنٹس یا مینوفیکچررر کو دراز کی ویب سائٹ پر ایک مخصوص جگہ دے دی جائے جہا وہ اپنے برانڈ لوگو کے ساتھ اپنی مصنوعات کو فروخت کے لیے پیش کر سکیں۔

یہی نہیں بلکہ مسابقت کی فضا قائم کرنے کے لیے 2013ء میں راکٹ انٹرنیٹ نے ایک دوسرا آن لائن مارکیٹ پلیٹ فارم متعارف کروا دیا، اس پلیٹ فارم کو ‘آزمالو ڈاٹ پی کے’  کا نام دیا گیا اور اس وقت اس کی سربراہی چیتے (Cheetay) کے شریک بانی احمد خان کر رہے تھے، چند مہینے ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد اس کاروبار کو ‘کیمو ڈٖاٹ پی کے’ (Kaymu.pk) کا نام دے دیا گیا، 2016ء  میں کیمو ڈاٹ پی کے دراز میں ضم ہو گئی جسے 2018ء میں علی بابا گروپ نے خرید لیا تھا۔

ان تینوں آن لائن مارکیٹ پلیٹ فارمز کی تشکیل میں راکٹ انٹرنیٹ کی بزنس ڈیویلپمنٹ ٹیم کو بہت سے عوامل کے باعث تاجروں (مرچنٹس) کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مرچنٹس کو ای کامرس پلیٹ فارم پر چیزوں کی فروخت سے زیادہ رقم کی توقعات تھیں، اس کے علاوہ پیسے کی غیر واضح آمد اور گم شدہ، چوری شدہ یا مسترد شدہ آئٹمز کی مد میں نقصان بھی ان کے غصے کے لیے کافی تھا۔

ان سب خدشات میں سب سے اہم مارکیٹ میں یکساں اور معیاری چیزوں کی عدم دستیابی کے علاوہ گاہکوں کے لیے غیردوستانہ چیک آؤٹ کا عمل تھا، ان خدشات اور مسائل کے حل کے لیے تین پاکستانی وائٹ لیبل ای کامرس سافٹ وئیر بطور سروس (ساس)  کمپنیاں تیزی سے برسر پیکار ہیں۔

پاتھ وے کیپیٹل پارٹنرز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی برانڈ ورس (Brandverse) ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو برانڈز کو ان کے ڈیجیٹل کاروبار اور سپلائی چین کے لیے مختلف چینلز پر چلنے والا محفوظ برانڈ کانٹنٹ جدید ترین کیمرہ سلوشن کے ذریعے تیار کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

Z2C  لمیٹڈ کی ایک ذیلی کمپنی bSecure ایک عالمی چیک آؤٹ سلوشن کمپنی ہے جو آن لائن مرچنٹس اور ڈیجیٹل پبلشرز کو چیک آؤٹ کے مرحلے کو آسان اور سادہ بنا کر زیادہ سے زیادہ سے زیادہ چیک آؤٹس کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے، پاکستان میں یہ ایک منفرد کمپنی ہے جو زبردستی اکاؤنٹ رجسٹریشن کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرتی ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کے بارے میں ای کنسلٹینسی ریسرچ کا کہنا ہے کہ 26 فیصد خریدار صرف اس کی وجہ سے خریداری نہیں کرتے۔

اسی طرح Blinkco ایک ایسی وائٹ لیبل سلوشن کمپنی ہے جو روایتی دکانوں، چاہے وہ سپر مارکیٹیں ہوں یا فارمیسی، کو اپنی خود کی برانڈڈ ایپ یا آن لائن سٹور بنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس کمپنی کا قیام لاک ڈاؤن کے دنوں میں ہوا اس کا مقصد مانگ میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ  کاروباروں کو براہ راست صارفین تک اشیا پہنچانے کا نظام بنانے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

یہ سب کمپنیاں کر کیا رہی ہیں؟

بظاہر تو برانڈ ورس ان کمپنیوں جیسی ہی لگتی ہے جن سے  شان فوڈز اور نیشنل فوڈز جیسی کمپنیاں، جو صارفین کو پیک شدہ مصنوعات فروخت کرتی ہیں، جدید روبوٹک کیمرہ سلوشن کی مدد سے  اپنی مصنوعات کی ہائی ریزولوشن کیٹالاگ بنانے کے لیے رابطہ کرتی ہیں، لیکن کمپنی کا اصل کاروباری ماڈل ‘چیکو’ نامی ایک ایپ کے گرد گھومتا ہے جو ان کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی تصاویر آن لائن سٹورز پر لگانے میں مدد کرتی ہے۔

اگر زیادہ سے زیادہ کمپنیاں برانڈ ورس کو اپنی مصنوعات کی ہائی ریزولوشن تصاویر بنانے کیلئے ادائیگی کریں جو کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم یا چیکو ایپ پر اپ لوڈ کی جا سکتی ہوں تو یہ سرمایہ کاری Tee Em Mart جیسے گروسری کے آن لائن سٹورز پر لگائی جانے والی تصاویر کے معیار کو کئی درجے بہتر بنا سکتی ہے کیونکہ پروڈکٹ کی اچھی تصاویر ہی صارف، جو غیرمعیاری تصاویر کی وجہ سے دھوکا کھا چکا ہو، کو اعتبار دلا سکتی ہیں۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے برانڈ ورس کے شریک بانی رضا متین کا کہنا تھا کہ کل کو کسی آن ڈیمانڈ ڈلیوری سروس کو گروسری کی ترسیل کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، ایسے میں ہم انہیں کام شروع کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس وہ ڈیٹا موجود ہے جس کی مدد سے کمپنی اپنے آن لائن سٹور پر بہت زیادہ لوگوں کو لا سکتی ہے اور ہم یہ کام ان کے لیے بہت جلدی سرانجام دے سکتے ہیں۔

برانڈ ورس کے پاس جس طرح کی تکنیکی صلاحیت ہے اس کے مطابق امکان تو اس بات کا ہے کہ کاروبار ریورس آکشن ماڈل کا نفاذ کرے گا جس کی بدولت چیکو پر دیے جانے والے کسی بھی آرڈر کے لیے کریم اور بائیکیا کے ترجیحی ڈلیوری پارٹنر بننے کا امکان ہے، قطع نظر اس کے کہ کون سی کنزیومر پیکجڈ گڈز کمپنی روایتی دکان برانڈڈ سٹور ہے۔

بی سکیور (bSecure) میں یہ کام بہت آسان ہے، یعنی چیک آؤٹ کا عمل آسان بنا دیا گیا ہے، اگر ویب سائٹ اے اس عالمی چیک آؤٹ سلوشن کو استعمال کرتی ہو گی تو اس سائٹ پر ٹرانزیکشن کرنے والے صارف کو ویب سائٹ بی پر تمام تفصیلات دوبارہ سے داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی بشرطیکہ ویب سائٹ بی بھی bSecure استعمال کرتی ہو۔ ان مراحل کا ختم کیا جانا صارف کے تجربے کو آسان بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

bSecure کے شریک بانی آدم داؤد کا پرافٹ سے بات چیت میں کہنا تھا کہ ”ہم کوئی پیمنٹ گیٹ وے نہیں بلکہ ہم ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہیں جو بنیادی طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بینکوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔ پیمنٹ گیٹ وے کے بڑے تکنیکی مسئلے آن بورڈنگ سے متعلق ہیں۔ ہم نے ٹیکنالوجی کو آسان بنا دیا ہے۔ آپ کو آن بورڈنگ کے لیے صرف ایک بینک اکاؤنٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے ہم نے بینکوں کے ساتھ شراکت داری کی ہوئی ہے۔ ہمارا پلیٹ فارم مرچنٹس کے آرڈر کی تصدیق کے لیے روبوٹک کالز کرتا ہے۔ صارفین کو کسٹمر سروس ایجنٹس کا خرچہ نہیں اُٹھانا پڑتا۔ کاروباری ماڈل کچھ اس طرح کا ہے کہ ہم اضافی خدمات جیسا کہ انشورنس، اقساط کے پلان وغیرہ کے لیے چارج کرتے ہیں۔ جوبلی اور ٹی پی ایل جیسے انشورنس ادارے ہمیں مطلوب ہیں۔ ہم ای کامرس کے لیے سپر ایپ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”

Z2C کی مدد سے bSecure میں کچھ اضافی فیچرز بھی شامل ہو گئے ہیں جس میں ویب سائٹ کے بغیر فروخت کرنا بھی شامل ہے۔ پراڈکٹ کا کیٹالاگ فیچر ایسا ہے کہ یوٹیوب اور فیس بک پر موجود مرچنٹ کو اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے اپنی ویب سائٹ بنانے کے جھنجٹ میں پڑنا ہی نہیں پڑتا۔ bSecure پر سائن اپ کرکے مرچنٹ اپنا خود کا ایک علیحدہ چیک آؤٹ پیج بنا سکتا ہے۔

آدم داؤد کا کہنا تھا کہ ”bSecure کے لیے یہ آئیڈیا ہمیں فروری میں آیا، اس کا حصہ بننے سے پہلے ہم نے بہت سے بلڈرز سے بات کی کہ آیا یہ سلوشن ان کے لیے کارگر ثابت ہوا ہے یا نہیں؟ ہم نے جائزہ لیا کہ کیا کہیں کوئی ممکنہ گاہک ہیں؟ ہم نے مشاہدہ کیا کہ ریستورانوں کو ان کی ویب سائٹس کے ذریعے روزانہ ہزاروں آرڈرز ملے۔”

Yayvo  کے سابق سربراہ کے طورپر کام کرنے اور کچھ دھچکوں کے بعد داؤد کے دماغ میں bSecure کی اہمیت رچ بس گئی تھی۔ انہوں نے پرافٹ کو بتایا کہ ایک دفعہ ‘ Yayvo’ کے ساتھ 13  لاکھ روپے کا فراڈ ہوا تھا جو ہیکنگ کا نتیجہ تھا۔ بینکوں نے اس کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا تھا جس پر انہیں سخت لڑائی لڑنا پڑی اور ان کی ٹیم کی  تین ماہ کی جدوجہد کے بعد وہ بینکوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ غلطی ان کی طرف سے نہیں ہوئی۔ تین ماہ بینکوں کو یقین دلانے میں لگے اور اتنا ہی عرصہ انہیں اپنا پیسہ واپس لینے میں لگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ مرچنٹس کو کہتے ہیں کہ انہیں پیسے ملیں گے، تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں پیسے ملیں گے۔

اگر سب سے بڑی میڈیا ایجنسی اس چیک آؤٹ سلوشن کی پشت پر ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی مقام پر زی ٹو سی bSecure  کے ساتھ مل کر کچھ اضافی فیچرز متعارف کروا کر بی سپورٹس اور بی انٹرٹینمنٹ جیسے برانڈز میں تبدیل ہو جائے گا۔ جیسا کہ پرافٹ پہلے ہی بتا چکا ہے کہ Z2C  اپنے خود کے ایک ایسے ٹی وی بزنس پر کام کر رہا ہے جس میں کمائی کا ذریعہ پروگراموں کے دوران چلائے جانے والے اشتہاروں کے علاوہ ای کامرس بھی ہو گی۔

پرافٹ یہاں پیشگوئی کرتا ہے کہ آنے والے وقت میں  bSecure  کا استعمال ایسے واحد دستیاب عالمی چیک آؤٹ سلوشن کے طور پر ہو گا جس کے ذریعے مرچنٹس اپنے ہمسائیگی اور مختلف شہروں کے مخصوص زونز میں براہ راست ریسپانس مہمات چلائیں گے۔ ایسا ہونے پر کوئی ڈرامہ دیکھتے ہوئے یا کسی مارننگ شو میں کسی اداکارہ یا اینکر کے لباس پر تبصرہ ہونے پر، ناظرین کے پاس یہ آپشن ہو گا کہ وہ مذکورہ لباس کو براہ راست سی ٹی وی سے خرید لیں اور یہ ایسی خریداری ہو گی جو bSecure کی معاونت سے انجام پائے گی۔

یہ معاملہ کیوں؟

مفلوج تجزیے کی وجہ سے وبا سے پہلے یہ سلوشنز مرچنٹس کی جانب سے کچھ خاص توجہ حاصل نہیں کر سکے تھے۔ وبا کے باوجود چیکو، بلنکو اور بی سکیور جیسے پلیٹ فارمز کی آمد سے لاک ڈاؤن پر من و عن عمل پیرا ہونے والے کاروبار مالکان کے لیے اپنے کسٹمرز تک پہنچنا کوئی مسئلہ نہیں رہا تھا۔

چیکو جیسی ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ اور اس پر سائن ان کرنے کے بعد کوئی بھی کاروبار مالک اس پر اپنی مصنوعات کے بار کوڈز خود سیٹ کر سکتا ہے جس کے بعد صارف کوئی بھی آئٹم مطلوبہ مقدار میں سرچ کرکے اسے حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح bSecure کا سیٹ اپ نہ صرف اردو اور انگریزی زبان میں دستیاب ہے بلکہ یہ اتنی ہی تیزی سے انجام بھی پا جاتا ہے۔ مرچنٹ کے کیٹالاگ اور چیک آؤٹ پیج کا سیٹ اپ بھی اہنے منفرد یو آر ایل کے ساتھ مختصر وقت میں تیار ہو جاتا ہے۔

آدم داؤد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”ہمارے پلیٹ فارم پر کسی کو اکاؤنٹ ایکٹیو کروانے میں کم از کم چھ گھنٹے لگتے ہیں۔ واحد پروپرائٹر کے لیے یہ وقت 20-30 گھنٹے جبکہ لمیٹڈ کمپنیوں کو ان کی اندورنی منظوریوں کے باعث اس سے کچھ زائد وقت لگتا ہے۔ ایک بار جب آپ bSecure پر سائن اپ ہو جاتے ہیں تو کسی دوسرے مرچنٹ سے خریداری کے لیے بھی آپ کو بار بار ایک ہی جیسی معملومات نہیں ڈالنا پڑتی بشرطیکہ وہ بھی bSecure استعمال کرتا ہو۔

تاہم بلنکو پر انٹرپرائز صارفین اپنی خود کی پسند کے رنگوں اور شکل و صورت کی سہولت کے ساتھ چند دن میں آن لائن سٹور یا ایپلی کیشن بنا سکتے ہیں۔ مگر یہ مکمل طور پر سازگار اور کارگر نہیں ہیں:

جیسا کہ پرافٹ بتا چکا ہے کہ دراز کے ساتھ قطع تعلقی کے بعد یونی لیور نے سپرسودا بنایا، ایسا اس لیے ہوا کیونکہ دراز نے یونی لیور کو فروخت ہونے والی اشیا کا فرسٹ پارٹی ڈیٹا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو کنزیومر پیکجڈ گُڈز کمپنیوں کو آن لائن مارکیٹ پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کرتے ہوئے درپیش رہتا ہے۔

اگرچہ چیکو، بلنکو اور bSecure جیسی ایپلی کیشنز استعمال کرنے والے مرچنٹس راتوں رات اپنی مصنوعات آن لائن فروخت کرنے کے قابل تو ہو جاتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیتے ہیں۔ ایپل اور اینڈرائیڈ ایکو سسٹم میں ہونے والی تھرڈ پارٹی کی ٹریکنگ کا مطلب یہ ہے کہ مشتہرین اور مرچنٹس کو اصل میں ایپ یا ویب سائٹ کا مالک ہونا چاہیے جسے وہ کسی ٹرانزیکشن کو ختم کرنے، صارف کے تجربے اور فرسٹ پارٹی ڈیٹا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مگر ایسا ہے نہیں، لہٰذا وہ مرچنٹس جو ان وائٹ لیبل سلوشنز پر انحصار کرتے ہیں انہیں ان پلیٹ فارمز کے ساتھ منسلک خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے اور اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ وہ ان پلیٹ فارمز پر بنائے گئے سٹورز کے مالک نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ متعد تکنیکی، آپریشنل معاملات اور صارف کے بُرے تجربے کی تمام تر ذمہ داری لازمی نہیں کہ پلیٹ فارم لے۔

مختصر یہ کہ وائٹ لیبل سلوشنز سکریپ کی سطح سے اپنا آن لائن سٹور بنانے میں لگنے والا وقت اور سرمایہ بچا دیتے ہیں اور وبا کے دوران یہ کاروبار کی بقا کے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خدانخواستہ اگر کورونا وائرس کی کوئی اور خطرناک لہر آتی ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگتا ہے تو پھر یہ ڈائریکٹ ٹو کنزیومر سلوشنز جیسا کہ چیکو، bSecure اور بلنکو ہی ہوں گے کہ کاروباروں کی مدد کے لیے جن پر اشتہاری ایجنسیوں اور مشتہرین  پر انحصار کرنا پڑے گا تاکہ کنزیومر گُڈز کمپنیاں اور دیگر کاروبار اپنے صارفین تک پہنچ سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here