’تیل و گیس کی تلاش کیلئے 25 بلاکس نیلام، مزید 15 اگلے سال نیلام ہوں گے‘

قدرتی گیس کے نئے ذخائر دریافت نہ کیے تو موجودہ ذخائر 12 برس میں ختم ہو جائیں گے، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر

148

کراچی: وزیراعظم کے مشیر برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے دو سالوں کے دوران تیل و گیس کی تلاش کیلئے 25 بلاکس نیلام کیے جبکہ اگلے سال میں مزید 15 بلاکس نیلام کیے جائیں گے۔

مقامی ہوٹل میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم بابر نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کا نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور دنیا بھر کی کمپنیاں 2040ء کے بعد پیٹرول انجن گاڑیاں بنانا بند کر دیں گی۔

مشیر برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو تبدیل کر دیا ہے، دنیا ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت آگے نکل چکی ہے، آج سے 50 سال بعد دنیا بالکل مختلف ہو گی ، ہمیں اب یہ سمجھنا ہے کہ اس سب کے ساتھ کیسے آگے بڑھنا ہے، اگر ہم دنیا کی طرح آگے نہیں بڑھے تو ہم مواقع گنوا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صرف توانائی کا امپورٹ بل 16 ارب ڈالر ہے جو مجموعی درآمدات کا 40 فیصد بنتا ہے، اگر ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت نہ ہوئے تو موجودہ ذخائر 12 برس میں ختم ہو جائیں گے۔

ندیم بابر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے دو سالوں کے دوران تیل و گیس کی تلاش کیلئے 25 بلاکس کمپنیوں کو دئیے ہیں جبکہ اگلے سال میں مزید 15 بلاکس نیلام کیے جائیں گے، ان نئے بلاکس کے نتائج آئندہ چند برسوں بعد نظر آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں توانائی کی پیداوار کے لیے کوئلہ بنیادی ضرورت تھی لیکن ہم نے دس سال پہلے تک کوئلے سے بجلی کی پیدوار شروع ہی نہیں کی تھی، آج تھر سے پیداوار شروع ہونے کے بعد 17 فیصد بجلی کی پیدوار ہو رہی ہے، تھر سے ہمیں صرف بجلی نہیں بلکہ تیل اور گیس کے لیے بھی کام کرنا ہے، صنعتی شعبے کے برعکس سی این جی کو مقامی گیس کی ترسیل نامناسب ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی این جی کو مقامی گیس ملے لیکن صنعتوں کو نہیں، یہ نامناسب ہے، درآمد کی جانے والی ایل این جی کو سی این جی سیکٹر میں استعمال کرنے سے بھی سی این جی کی قیمت پیٹرول سے 20 سے 25 فیصد کم ہو گی۔

کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ندیم بابر نے کہا کہ کے الیکٹرک کے پاس ٹرانسمیشن کا نظام کمزور ہے، وفاق نے کے الیکٹرک کو مزید 1100 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے جس کے لیے توقع ہے کہ کے الیکٹرک اگلے سال تک ٹرانسمشن نیٹ ورک کا کام مکمل کرلے گا جس کے نتیجے میں کے الیکٹرک کے سسٹم میں اگلی گرمیوں میں 2000 میگاواٹ اضافی بجلی آ جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here