جاپان ٹڈی دل کیخلاف اقدامات اور غذائی تحفظ کیلئے 1.3 ملین ڈالر کی امداد دے گا

187

اسلام آباد: جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی (جے آئی سی اے) اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کو ٹڈی دل پر قابو پانے کے علاوہ متاثرہ کسانوں کی خوراک اور غذائی تحفظ کے لیے 1.3 ملین ڈالر امداد فراہم کرے گا۔

ایف اے او کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس حوالے سے پاکستان میں جے آئی سی اے کے سربراہ فورتو شیگیکی (Furutu Shigeki) اور ایف اے او کی عبوری نمائندہ ریبیکا بیل (Rebekah Bell) نے معاہدے پر دستخط کیے۔

اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “صحرائی ٹڈی دل سے متاثرہ کسان برادری کو خوراک کی معاونت اور چھوٹے درجے کے کسانوں کے اہلِ خانہ کی خوراک کے تحفظ کو بڑھانے کے لیے بلوچستان کے ضلع خاران اور سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں منصوبے پر کام کیا جائے گا۔  ان اضلاع کی نشاندہی صوبائی محکمہ زراعت کے ساتھ مشاورت خوراک کی حفاظت اور معاش کا جائزہ لینے سے ہوئی”۔

13 ماہ کا منصوبہ متوسط دیہاتی خاندانوں کے ساتھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کی خوراک اور غذائی تحفظ پر توجہ دے گا، منصوبہ میں خاندانوں کی خوراک کی پیداوار کی مقدار، معیار اور تنوع میں اضافے کی طلب اور نیوٹریشن ایجوکیشن پروگرام کے تجربات شامل ہیں۔ منصوبے سے 18370 کے قریب شہریوں کو براہِ راست فائدہ ہو گا۔

اس دوران، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ٹڈی دل اقدامات اور ان پر قابو پانے کی سرگرمیوں پر توجہ دی جائے گی جس سے مستقبل میں ٹڈی دل کے حملوں پر قابو پانے اور ان کی برقت نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے سربراہ جے آئی سی اے فورتو شیگیکی نے کہا کہ مشرقی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی طرح پاکستان بھی صحرائی ٹڈی دل کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوا، جے آئی سی اے نے پاکستان کی جلد امداد کی ضرورت کو پہنچانتے ہوئے گزشتہ سال اکتوبر میں ٹڈی دل سے متاثرہ کسانوں کی معاش کی ہنگامی امداد پر عملدرآمد کیا ہے۔

پاکستان میں ایف اے او کی نمائندہ ریبیکا بیل نے جے آئی سی اے کی مالی امداد اور طویل مدتی شراکت داری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے نادار دیہاتی خاندانوں کی غذا اور خوراک کے عدم تحفظ کو حل کرنے کے لیے یہ منصوبہ اہم کردار ادا کرے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here