وبا کے منفی معاشی اثرات، ایک کروڑ بچیوں کی کم عمری میں شادی کا خدشہ

کورونا وائرس نے دنیا بھر میں لڑکیوں کی زندگیوں پر شدید منفی اثرات مرتب کیے ہیں، اقتصادی بوجھ اور بے روزگاری کی وجہ سے زیادہ تر خاندان لڑکیوں کی کم عمری میں شادیوں پر مجبور ہو گئے ہیں: خواتین کے عالمی دن کے موقع پر یونیسیف کی رپورٹ جاری

190

واشنگٹن: کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے اثرات کے باعث رواں عشرے کے دوران بعض ممالک میں اضافی طور پر ایک کروڑ بچیوں کی کم عمری میں شادی کا خدشہ ہے۔

سوموار کو خواتین کے عالمی دن پر یونیسیف نے “کورونا وائرس: بچوں کی کم عمری کی شادی کے خدشہ میں اضافہ” کے نام سے تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وبا کے باعث سکولوں کی بندش، معاشی بحران، معمول کی سرگرمیوں کی بندش، ماں یا باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کی موت سے انتہائی غریب اور کمزور طبقہ سے تعلق رکھنے والی کم عمر بچیوں کی شادیوں میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 سالوں کے دوران کم عمر بچیوں کی شادیوں کی شرح 15 فیصد تک کم ہو گئی تھی تاہم اب اس شرح میں پھر اضافے کا خدشہ ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور (Henrietta Fore) نے کہا ہے کہ لاکھوں بچیوں کو پہلے سے درپیش مشکل صورت حال کورونا وائرس کی وبا سے مزید ابتر ہو گئی ہے جس پر دنیا پہلے ہی قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ وبا کے باعث سکولوں کی بندش، دوستوں سے الگ ہونے، غربت میں اضافے اور بے روزگاری نے جلتی آگ پر تیل کا کام کیا ہے جس کے سبب برسوں سے جاری نابالغ بچوں کی شادیوں کے رجحان کے خلاف جدوجہد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں خاص طور پر لڑکیوں کی زندگیوں پر شدید منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور وبا کے سبب خاندانوں پر پڑنے والے اقتصادی بوجھ اور بے روزگاری کی وجہ سے بھی زیادہ تر متاثرہ خاندان لڑکیوں کی کم عمری میں شادیوں پر مجبور ہو گئے۔

مطالعے کے مطابق کم عمری میں بچیوں کی شادیوں سے جہاں انہیں گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تعلیمی سہولیات تک رسائی نہیں دی جاتی، وہیں انہیں قبل از وقت ماں بننے اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں جیسے مسائل اور اموت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی نہیں بچیوں کے خاندان اور اس کے دوستوں سے الگ ہونے سے ذہنی مسائل کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے تمام رکن ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے دوبارہ سکول کھولیں، قانونی اصلاحات پر عملدرآمد کریں ، صحت اور سماجی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنائیں تاکہ بچیوں کی کم عمری کی شادیوں کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here