شئیرز کی قیمت میں اچانک اضافہ کیوں اور کیسے ہوا؟ پی آئی اے لاعلم

دسمبر 2020ء اور جنوری 2021ء میں قومی ائیر لائن کے بی کلاس شئیرز کی قیمت میں غیرمعمولی طور پر اضافہ ہوا مگر کمپنی کے مالیاتی مسائل میں ایسا کچھ نہیں ہوا جو اضافے کا سبب بنتا

971

پی آئی اے (بی) کے ساتھ کیا چل رہا ہے؟ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ‘بی’ کیا ہے؟ تو اس سے مراد وہ حصص ہیں جو عام سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔ چار فروری کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے قومی فضائی کمپنی  پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کو ایک خط لکھ کر اس کے بی شئیرز کی قیمت میں ہونے والے اچانک اضافے کی وجوہات بارے دریافت کیا گیا۔

یہ معاملہ دو وجوہات کی بنا پر دلچسپ ہے۔ ایک تو اس لحاظ سے کہ اس کا تعلق پچھلے دو ماہ میں  پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں  متعدد حصص کی قیمت میں غیرمتوقع اضافے کے بڑے معاملے سے ہے اور دوسرا اس لحاظ سے کہ اس سے پی آئی اے کے ڈھانچے سے متعلق کئی انکشافات منسلک ہیں۔

قومی ائیر لائن کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے بھیجے جانے والے خط کا جواب 12 فروری کو دیا گیا جس میں پی آئی اے نے کہا کہ سال 2019ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق قومی ائیرلائن نے 1.499 ملین بی کلاس حصص جاری کیے، ان میں سے 1.462 ملین حصص وفاقی حکومت کی تحویل میں گئے جبکہ بقیہ 37 ہزار مارکیٹ کا حصہ بنے۔

تاہم یہ صورت حال اے کلاس حصص، جن کی تعداد 5 ہزار 233 ملین  ہے، سے مختلف ہے۔ ان میں سے 4 ہزار 791 ملین یعنی 91.56 فیصد حصص وفاقی حکومت کے پاس ہیں جبکہ 173 ملین یعنی صرف 3.3 فیصد انفرادی سرمایہ کاروں کے پاس ہیں۔ اے کلاس 10 روپے فی شئیر اور بی کلاس پانچ روپے فی شئیر کے حساب سے فروخت کیے گئے۔

آگے چل کر پی آئی اے نے خط میں مزید کہا ہے کہ دسمبر  2020ء اور جنوری 2021ء میں ائیرلائن کے بی شئیرز میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، یہاں یہ بتانا 10 دسمبر 2020ء کو 19.79 روپے فی شئیر کے حساب سے پانچ سو شئیرز کی ٹرانزیکشن کی گئی جس کے ٹھیک آٹھ دن کے بعد یعنی 18 دسمبر2020ء کو مزید پانچ سو شئیرز کی ٹرانزیکشن کی گئی مگر اس بار قیمت 27.24 روپے فی شئیر تھی۔ لہٰذا شئیرز کی ان دونوں ٹرانزیکشنز میں قیمت کا فرق 37.64 فیصد بنتا ہے۔

پی آئی اے کے مطابق مذکورہ بالا دونوں مہینوں میں بی شئیرز میں کوئی ٹرانزیکشنز نہیں ہوئیں مگر اس کے باوجود 19 جنوری 2021ء تک ان کی کلوزنگ پرائس میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔

اس معاملے کے حوالے سے قومی ائیر لائن نے تمام ذمہ داری پاکستان سٹاک ایکسچینج پر ڈال دی کہ وہ ہی معلوم کرے کہ کیا مسئلہ یا گڑبڑ پیدا ہوئی۔ اسٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا ”جیسا کہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ عام سرمایہ کاروں کے پاس اتنی بڑی تعداد میں شئیرز کی ملکیت نہیں کہ وہ قیمت کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑچھاڑ کرسکیں۔ لہٰذا یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلوم کرے کہ کسی ٹرانزیکشن کے نہ کیے جانے کے باوجود شئیرز کی قیمت میں تبدیلی کیوں ہوئی۔”

دیکھا جائے تو پی آئی اے کا مؤقف درست معلوم ہوتا ہے کہ جتنے شئیرز عام سرمایہ کاروں کے پاس ہیں اس کی بناء پر حصص کے ساتھ کوئی چھیڑچھاڑ نہیں کی جا سکتی۔ مگر دلچسپ بات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے قومی ائیر لائن کو اس حوالے سے خط لکھ کر وضاحت طلب کرنا اور پی آئی اے کی جانب سے بھیجا جانے والا جوابی وضاحتی خط ہے۔ یہ معاملہ بالخصوص دسمبر 2020ء اور جنوری 2021ء سے متعلق ہے۔ زیادہ تر شئیرز کی قیمت میں ہونے والے اس اضافے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی جا سکی۔

مگر ہم اس معاملےمیں ٹی آر جی کے شئیرز میں ہونے والے اضافے کا حوالہ دینا چاہیں گے۔ 15 فروری کو ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ورلڈ کال نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو مطلع کیا کہ وہ گزشتہ دنوں کے درمیان ہونے والے کسی بھی کارروائی سے متعلق کوئی خبر نہیں رکھتے جو اس کے شئیرز کی غیرمعمولی نقل و حرکت کا سبب بن سکتی ہے۔

کیا پی آئی اے کے ساتھ کوئی منفرد معاملہ ہے جو اس کے شئیرز کی قیمت میں اچانک اس قدر اضافہ دیکھنے میں آیا؟ تاریخی طور پر بات کی جائے تو  سال 2014ء سے 2019ء کے درمیان کمپنی کا پی آئی اے کا ریونیو 99519 ملین روپے سے بڑھ کر 147457 ملین روپے تک پہنچ گیا تھا۔ 2015ء اور2017ء کے درمیانی عرصے میں اس کی کمائی میں کمی ہوئی اور یہ لگ بھک 90 ملین روپے رہ گئی ۔ 2019ء ائیرلائن کے لیے اچھا سال ثابت ہوا۔ مگر اس سب کے باوجود بھی 2014ء سے 2019ء تک کے عرصے میں کمپنی کے اخراجات 114457 ملین روپے سے بڑھ کر 166091 روپے تک پہنچ گئے۔ ائیرلائن کے نقصانات میں اضافے کی وجہ بھی یہی ہے جو 2014ء میں 31744 ملین روپے تھے اور 2018ء میں 67327 ملین روپے جبکہ 2019ء تک یہ 55451 ملین روپے تک پہنچ گئے۔

تو کیا 2020ء میں چیزیں بہتر ہوئیں؟ جواب ہے نہیں۔  جون 2020ء میں جاری ہونے والی ائیرلائن کی نصف سالہ رپورٹ کے مطابق اس کا ریونیو 51471 ملین روپے تھا جبکہ 2019ء کے اسی عرصے میں اس کا ریونیو 65924 ملین روپے تھا۔ مزید یہ کہ 2020ء میں کمپنی کے نقصان کا حجم قبل از ٹیکس 36896 ملین رہا جبکہ 2019ء میں یہ 37563 ملین روپے تھا۔ کمپنی کی حالیہ مالیاتی معلومات کے مطابق ستمبر 2020ء تک اس کے ریونیو کا حجم 74362 ملین روپے تھا جبکہ 2019ء میں یہ 107339 ملین روپے رہا تھا۔

لیکن ہوا کیا؟ پی آئی اے کے مطابق کورونا وبا کے باعث 2020ء ائیرلائن انڈسٹری کے لیے ایک نہایت بُرا سال تھا۔ اس برس کمپنی کا پسینجر اور کارگو ریونیو 44 فیصد تک گر گیا۔ تاہم سپیشل کارگو فلائٹس کی وجہ سے اس کے چارٹرڈ ریونیو میں 98.7 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ فلائٹس کی تعداد میں کمی کی وجہ سے براہ راست اخراجات میں 34.1 فیصد اور ایندھن کے اخراجات میں 52.9 فیصد کمی واقع ہوئی۔

ان اعدادوشمار کو دیکھ کر یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہوائی سفر کی تاریخ کا بدترین سال پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے لیے ایک معمول کا سال رہا۔ پی آئی اے کے مالیاتی وسائل میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جو اس کے شئیرز کی قیمت میں اضافے کی ضمانت دے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here