’پانچ مزید پورٹ ٹرمینلز کے قیام کیلئے کام جاری‘

پاکستانی سرمایہ کار جہاز خرید کر نیشنل شپنگ کمپنی کو دے سکتے ہیں اس کا بل انہیں ڈالرز میں نہیں بلکہ پاکستانی روپے میں ادا کیا جائے گا: وزیر بحری امور علی زیدی کا لاہور چیمبر میں خطاب

321

لاہور: وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ پانچ مزید پورٹ ٹرمینلز کے قیام کے لیے کام جاری ہے، اس سے شپنگ کے مسائل حل ہو جائیں گے اور کاروباری برادری کو خاطرخواہ فائدہ ہو گا۔

جمعہ کو وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کا دورہ کیا، جہاں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک جہازوں کی خریداری اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے سرمایہ کاروں کو سہولیات دے رہا ہے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرمایہ کار جہاز خرید کر نیشنل شپنگ کمپنی کو دے سکتے ہیں اس کا بل انہیں ڈالرز میں نہیں بلکہ پاکستانی روپے میں ادا کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیمبرز، وزارت بحری امور اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ڈیمرج اور دیگر مسائل حل کرنے کے لیے کام کرے گی۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور نے کہا کہ کنٹینرز کی لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کے لیے پانچ ٹرمینلز ہیں، مزید پانچ ٹرمینلز کے قیام کے لیے کام جاری ہے، پاکستان امپورٹ فریٹ بل کی مد میں سالانہ ساڑھے پانچ ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے لیکن بلیو اکانومی پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے،

اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ کچھ شپنگ کمپنیاں مسائل پیدا کر رہی ہیں، کنٹینرز اُن پورٹس پر اتار دئیے جاتے ہیں جہاں سے کاروباری برادری کو ڈیمرج اور دیگر مد میں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے اور اس کی ادائیگی بھی ڈالرز میں کرنا پڑتی ہے۔

طارق مصباح نے کہا کہ ٹرمینلز اور پورٹس پر آفیشلز ڈیمرج چارجز کی مد میں چھوٹ نہیں دیتے جبکہ کنسائمنٹس شپنگ کمپنیوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے تاخیر سے دوچار ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی نسبت ملک کے دیگر حصوں میں کاروباروں کے لیے شپنگ کمپنیاں کنٹینر سکیورٹی چارجز کافی زیادہ وصول کرتی ہیں۔ یہ چارجز یکساں کیے جائیں۔ ڈلیوری آرڈر کے اجراء کے لیے  کاروباری برادری کو ایک سے دو دن انتظار کرنا پڑتا ہے، یہ مسئلہ بھی فوری حل کیا جائے۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ شپنگ کمپنیوں کے بھاری چارجز میں کمی لانا بہت ضروری ہے۔ کنٹینرز کی جانچ پڑتال کی موجودہ تکنیک درست نہیں ہے، متعلقہ عملے کو اس بارے میں اچھی طرح تربیت دی جائے۔

لاہور چیمبر کے دیگر عہدیداروں نے کہا کہ لاہور میں ایکسپورٹ کنٹینرز کی خاطر خواہ تعداد میں دستیابی یقینی بنائی جائے۔ حکومت نے شپنگ کے شعبہ میں نجی شعبہ کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے جو پالیسی متعارف کرائی ہے اس کے اغراض و مقاصد سے بھی کاروباری برادری کو آگاہ کیا جائے۔

علی حیدر زیدی نے کہا کہ لاہور چیمبر کے صدر ایک وفد لے کر کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اور گوادر کا دورہ کریں جہاں انہیں اہم امور سے آگاہی دی جائے گی، گوادر کے حوالے سے قوم کو جلد ہی بڑی خوشخبری دیں گے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمینوں کے ہمراہ دوبارہ جلد ہی لاہور چیمبر کا دورہ کروں گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here