سال 2020ء کے دوران انٹرنیٹ پر پابندیوں والے 29 ممالک میں بھارت سرفہرست رہا

73

نئی دہلی: سال 2020ء کے دوران کورونا وائرس کی وبا کے باوجود دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنے والے 29 ممالک میں بھارت سرفہرست رہا ہے۔

گزشتہ سال دنیا بھر کے اربوں لوگوں نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاﺅن کی وجہ سے اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے رابطوں، آن لائن کام، تعلیم کے حصول اور وبا کے بارے میں معلومات کے حصول کیلئے انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار کیا تھا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک غیرمنافع بخش ڈیجیٹل رائٹس گروپ “ایکسیس ناﺅ” کی طرف سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران بھارت سمیت 29 ممالک نے دانستہ طور پر کم سے کم 155 مرتبہ انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کی یا اس کی رفتار کم کی۔

رائٹس گروپ کے سینئر بین الاقوامی مشیر اور ایشیا بحرالکاہل کے بارے میں پالیسی ڈائریکٹر رمن جیت سنگھ چیمہ نے ان 29 ممالک کی حکومتوں کی طرف سے اظہار رائے کے جمہوری حق کو سلب کرنے کیلئے خاص طور پر عالمی وباء کے دوران انٹرنیٹ کی بندش کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر تشویش ظاہر کی۔

سال 2020ء کے دوران بھارتی حکومت نے 109 مرتبہ انٹرنیٹ معطل کیا جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پورے سال کے دوران مجموعی طور پر 90 فیصد سے زائد وقت انٹرنیٹ سروس معطل ہی رہی۔

مقبوضہ علاقے میں جنوری 2020ء سے فروری 2021ء تک تیز رفتار فورجی انٹرنیٹ سروس کی بجائے سست رفتار ٹوجی انٹرنیٹ سروس فراہم کی جا رہی جس سے طلباء، ڈاکٹروں، تاجروں اور عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ بھارت نے پانچ اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے مقبوضہ علاقے کا مسلسل فوجی محاصرہ کر لیا تھا اور انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کر دی تھیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here