سی ڈی ڈبلیو پی نے گلگت بلتستان کیلئے صحت سے متعلق 634 ملین کا منصوبہ منظور کر لیا

198

اسلام آباد: سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 63 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت کے شعبہ سماجی تحفظ صحت کے ایک منصوبے کی منظوری دیدی جبکہ 20 ارب روپے کا ایک منصوبہ حتمی منظوری کیلئے ایکنک کو بھیج دیا۔

سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس سوموار کو ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن محمد جہانزیب خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں صحت اور آبی وسائل سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے۔

اجلاس میں 63 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت کا سوشل ہیلتھ پروٹیکشن فیز ٹو کا منصوبہ منظور کیا گیا، اس منصوبے کے تحت گلگت بلتستان میں عوام کے لیے علاج معالجے کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا اور ادویات، جنرل سرجری، آرتھو پیڈکس، نسوانی امراض، بچوں کے امراض اور ناک کان اور گلے کے امراض کا علاج ممکن ہو سکے گا۔

اجلاس میں آبی وسائل سے متعلق “رینی کینال پروجیکٹ (فیز ون) کے لیے 20 ارب 53 کروڑ 38 لاکھ روپے لاگت کا منصوبہ حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت کشمور، گھوٹکی، سکھر اور خیرپور اضلاع میں چار لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے کو سیراب کرنے کیلئے 174 کلومیٹر لمبی نہر تعمیر کی جائے گی۔

سی ڈی ڈبلیو پی نے وزارت آبی وسائل کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے کو او ایس ایم لاگت کے ساتھ حکومت سندھ کے حوالے کریں جبکہ حکومت سندھ کو کمانڈ ایریا کی ترقی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان سول ایوی ایشن کو سامان ک فراہمی اور عملے کی تربیت کے لیے تین ارب 27 کروڑ 25 لاکھ روپے کے کانسیپٹ کلئیرنس منصوبے کی منظوری دی گئی۔

راول لیک ٹریٹمنٹ پلان کی بحالی اور اپ گریڈیشن، پرانا ٹرانسمیشن پائپ اور واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری کیلئے سامان کی خریداری کے ضمن میں تین ارب 92 کروڑ روپے لاگت کے کانسیپٹ کلئیرنس پرپوزل کو منظوری کر لیا گیا۔

اسی طرح کوویڈ۔19 ویکسین کے لئے ایک ارب دو کروڑ روپے سے زائد کے کانسیپٹ کلئیرنس پرپوزل کو منظور کیا گیا، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے وزارت قومی صحت کو ہدایت کی کہ کوویڈ سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی بروقت خریداری اور ویکسی نیشن پروگرام کے لئے تمام ضروری انتظامات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں سیکرٹری پلاننگ حمید یعقوب شیح، پلاننگ کمیشن اور وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی جبکہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے صوبائی حکومتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here